Al-Risala · March 2007 · page 9

Islam is the destiny of mankind.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۹

موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنماؤں نے یہی انداز اختیار کیا۔ مثلاً مولا نا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ستارے ڈوب گئے تو کیا ہوا۔ سورج تو چمک رہا ہے اس سے کریں مانگ لو اور اُن اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالوں کی سخت ضرورت ہے۔ ‘‘ مولانا آزاد کے ان پُرشور الفاظ میں جوشِ خطاب تو ضرور ہے، مگر اس میں کوئی رہنمائی نہیں۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس سے اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کوئی سمت سفر نہیں ملی۔

لکھنؤ کے ایک مشہور مسلم ادارے سے ایک عربی ماہ نامہ نکلتا ہے، جس کا نام ’’البعث الاسلامی‘‘ ہے۔ اس کے ٹائٹل پر ہمیشہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں: شعارنا الوحید إلی الإسلام من جدید (ہمارا واحد ماٹو یہ ہے کہ از سر نو اسلام کی طرف لوٹا جائے) اس ماہ نامے میں اور اس طرح کے دوسرے اخباروں اور ماہ ناموں میں اسی طرح کے پُر جوش الفاظ چھپتے رہتے ہیں، مگر ان میں دورِ جدید کی نسبت سے مسلمانوں کے لیے کوئی ذہنی غذا موجود نہیں ہوتی۔

ایک عرب ملک کے عربی روزنامے میں میں نے دیکھا کہ ایک بڑے مسلم لیڈر کی تقریر چھپی ہوئی ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے پُر جوش طور پر کہا تھا: الاسلام قدر البشرية (اسلام انسانیت کی تقدیر ہے):

Islam is the destiny of mankind.

یہ الفاظ بظاہر نہایت شان دار معلوم ہوتے ہیں، لیکن پوری تقریر سے آج کا انسان یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اسلام کی وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کو ’’تقدیر انسانی‘‘ کا درجہ ملا ہوا ہے۔ پوری تقریر مدّ عیانہ جوش کے انداز میں تھی نہ کہ علمی دلائل کے انداز میں۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق اپنے زمانہ صدارت میں نیویارک گئے۔ وہاں انھوں نے یکم اکتوبر 1980 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ۔ مسلمانوں نے دوبارہ اسلام میں اپنا فخر دریافت کر لیا ہے:

Muslims have rediscovered their pride in Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page