زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۸
ہوئی ۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے اس مسئلے کی باقاعدہ تحقیق کی۔ مسلمانوں کی جدید نسل (عرب اور غیر عرب دونوں) کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مولا نا ابو الحسن علی ندوی اور ان کے جیسے لوگ جس چیز کو ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کہہ رہے ہیں، وہ دراصل ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا کیس ہے۔
اصل یہ ہے کہ آج کا زمانہ سائنسی طرزِ مطالعہ کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان ہر چیز کو سائنٹفک فریم ورک میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ آج کے انسان کو صرف وہ استدلالی اسلوب اپیل کرتا ہے جو مبنی بر عقل (reason-based) ہو، مگر آج کے مسلم مصنفین اور اہل علم نے جو اسلامی لٹریچر تیار کیا ہے، وہ سب کا سب قدیم روایتی اسلوب پر مبنی ہے نہ کہ جدید سائنسی اسلوب پر۔ مثال کے طور پر مولانا ابو اعلیٰ مودودی کی ایک کتاب اس نام کے ساتھ چھپی ہے : 'عقل کا فیصلہ حالاں کہ اس کتاب میں جو استدلال پیش کیا گیا ہے، وہ مکمل طور پر نقلی دلیل پر مبنی ہے نہ کہ عقلی دلیل پر ۔ (ملاحظہ ہو ارقم الحروف کی کتاب 'فکرِ اسلامی، صفحہ 216)
اسلام کے خلاف جدید فکری چیلنج کا آغاز مغربی تہذیب کے عروج کے ساتھ پیدا ہوا۔ یہ مغربی تہذیب بیک وقت دو عناصر کے ساتھ مسلم دنیا میں داخل ہوئی ۔ نو آبادیاتی سیاست، اور جدید عقلی افکار۔ اس کے مقابلے میں مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، وہ زیادہ تر پر جوش ردّ عمل کی صورت میں تھا۔ ایک طبقے نے اس کو سادہ طور پر جہاد (بہ معنی قتال) کا مسئلہ سمجھا اور مسلح جہاد کے ذریعے اس کو ختم کرنا چاہا۔ یہ مسلح جہاد بے شمار قربانیوں کے باوجود ایک طرفہ نقصان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تاہم اس بحث میں ہمیں سیاسی ردّ عمل یا مسلح جہاد کا جائزہ نہیں لینا ہے، بلکہ صرف فکری ردّ عمل کا جائزہ لینا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مسلم رہنماؤں نے اس مسئلے کے مقابلے میں صرف یہ کافی سمجھا کہ وہ مسلمانوں کو پر جوش تقریروں اور تحریروں کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا:
نوا را تلخ تر می زن، چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چومُمل راگراں بینی!
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues