Muslims have rediscovered their pride in Islam.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱
کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا: أليست نفساً (کیا وہ انسان نہیں)
(فتح الباری بشرح صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 214)
صحیح البخاری تمام مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ حدیث واضح طور پر احترامِ انسانیت کی حدیث ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مذہب و ملت کے فرق کے بغیر ہر انسان کا یکساں طور پر احترام کیا جائے ۔ اس واضح تعلیم کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد اور مدارس میں انسانیت کے اس عمومی احترام کا کوئی تصور نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی دینی جماعت ہے۔ اس جماعت کے بانی اور رہنما سب کے سب علماء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس جماعت کے اصول میں ” اکرامِ مسلم“ تو ہے، لیکن اکرامِ انسان کا ذکر بطورِ اصول اس میں موجود نہیں۔
احترام انسان کی اِس واضح تعلیم کے باوجود ہمارے مدارس اور مساجد میں کیوں ایسا ہے کہ اس کا ماحول ہمارے مدارس اور مساجد میں موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ احترام انسان کی مذکورہ حدیث کو ہمارے فارغینِ مدارس جن کتبِ شرح کے ذریعے پڑھتے ہیں، اُن کتابوں میں حدیث کا یہ مفہوم سرے سے موجود ہی نہیں۔ فتح الباری نہایت مستند شرح سمجھی جاتی ہے، لیکن آپ اس حدیث کی شرح فتح الباری میں پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ فتح الباری میں اس حدیث کی دس سے زیادہ تاویلیں موجود ہیں، لیکن اس میں وہی تاویل موجود نہیں جو حدیث کا اصل مقصود ہے، یعنی احترامِ انسانیت۔
یہ تمام شرحیں اِس مفروضے پر قائم ہیں کہ غیر مسلم کا احترام مسلمانوں کے لیے کوئی مطلوب چیز نہیں، مسلمانوں کو مسلمانوں کا احترام کرنا ہے نہ کہ غیر مسلموں کا۔ فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کے تحت بہت سے علماء کی رائیں نقل کی گئی ہیں۔ ان تمام رایوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہودی کے جنازے کے احترام میں نہیں اٹھے، بلکہ آپ کے اٹھنے کا سبب کچھ اور تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues