Al-Risala · March 2007 · page 12

Muslims have rediscovered their pride in Islam.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲

مثلاً کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کے احترام میں اٹھے جو جنازے کے ساتھ چل رہے تھے (إنما قمنا للملائكة) ، کسی نے کہا کہ جنازے کے بخور (دھونی) کی بو سے آپ کو اذیت پہنچی، اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (فاذاه ريح بخورها) ، کسی نے کہا کہ جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ آپ نے اس کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ کھڑے ہوگئے (كراهية أن تعلو رأسه)، کسی نے کہا کہ آپ نے شروع میں ایسا کیا تھا اور بعد میں اس کو ترک کر دیا، اس لیے اب یہ طریقہ منسوخ ہے (أنه ترك بعد فعله، فالأمر بالقيام منسوخ)، کسی نے کہا کہ آپ نے ایسا صرف بیانِ جواز کے لیے کیا تھا (كان قعوده لبيان الجواز)، وغیرہ۔ صحیح البخاری میں کوئی شخص اس حدیث کو پڑھے تو وہ اس سے یہ اخذ کرے گا کہ اسلام میں انسان کے احترام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ احترامِ انسان اسلام کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ لیکن جب آپ اس حدیث کو شارحینِ حدیث کی کہی ہوئی باتوں کی روشنی میں دیکھیں تو یہ تاثر بالکل بدل جائے گا۔ اس حدیث میں آپ کو احترامِ انسانیت کا کوئی سبق نہیں ملے گا۔ پچھلی صدیوں میں عملاً یہی پیش آیا۔ ہمارے مدارس سے لاکھوں لوگ صحیح البخاری پڑھ کر نکلے، مگر میرے علم کے مطابق، کسی نے اس حدیث کو احترامِ انسانیت کی تعلیم کے طور پر نمایاں نہیں کیا۔ حالاں کہ دورِ جدید کی نسبت سے یہ حدیث بے حداہمیت رکھتی ہے۔

دورِ جدید میں تمام انسانوں کا یکساں احترام ان کے مطلق حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دورِ جدید کے انسانوں کے لیے بہت زیادہ اہم ہے، مگر مدرسوں میں کلاسکل لٹریچر کو پڑھ کر جو لوگ نکلتے ہیں، وہ صرف تقلیدی ذہن کے حامل ہوتے ہیں، وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے عملاً پوری طرح خالی ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم کتابوں میں اس حدیث کی شرح میں جو کچھ لکھ دیا گیا تھا، اس کو انھوں نے آخری سمجھ لیا۔ اور تخلیقی غوروفکر کے ذریعے حدیث کے غیر روایتی معنی کو دریافت کرنے میں وہ ناکام رہے۔

اب یونیورسٹی ایجوکیشن کی ایک مثال لیجیے۔ موجودہ زمانے کی تمام یونیورسٹیوں میں ارتقاءِ حیات

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page