Al-Risala · January 2007 · page 10

۲۰ فروری، ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰

الفاظ اور کتاب کا صفحہ نمبر دونوں روانہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ نئی دہلی، ۱۸ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین ان کے پہلے خط کو پڑھ کر میں نے مذکورہ کتاب میں اس کا کوئی حوالہ نہ پایا تو میں نے انھیں دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا:

برادر محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے اپنے خط مؤرخہ ۱۶ جنوری ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ: ’’یوسف القرضاوی صاحب کے فتاوی کی دو جلدیں (اردو ترجمہ) مرکزی مکتبہ اسلامی، نے شائع کی ہیں۔ پہلی جلد پر مولانا جلال الدین عمری کا مقدمہ ہے۔ مقدمے میں انھوں نے یہ بات ڈاکٹر قرضاوی کے بارے میں لکھی ہے کہ وہ موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں‘‘۔ میں نے ’’فتاویٰ یوسف القرضاوی‘‘ نامی مذکورہ کتاب کی پہلی جلد حاصل کی اور اس میں مولانا جلال الدین عمری کے پیش لفظ کو دیکھا، مگر اس میں نہ تو دار الدعوہ کا لفظ موجود ہے اور نہ یہ بات کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ آپ نے یہ بالکل بے اصل بات آخر کس طرح لکھ دی۔

۲۰ فروری، ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

میرے اس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

محترم المقام حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ادھر آپ کے کئی والا نامے ملے۔ امید ہے کہ میرا جواب بھی آپ کو موصول ہوا ہوگا۔ حال ہی میں میرے مطالعے میں ایک کتاب آئی ہے: ’’الإسلام والتعايش السلمي مع الآخر‘‘ (للدكتور طه جابر علوانی) صدر اداره المعهد العالمي للفكر الاسلامی واشنگٹن، امریکا، صفحات (۱۰۲) اس کے اخیر کے دو صفحات آپ کی خدمت میں فیکس کر رہا ہوں، ان میں تقریباً وہی بات کہی گئی ہے جو دنیا کے ’’دار دعوت‘‘ ہونے کے سلسلے میں آپ کا موقف ہے اور خاکسار بھی اسی سے اتفاق رکھتا ہے۔

۲۱ فروری، ۲۰۰۶، نئی دہلی والسلام غطریف شہباز ندوی ان کے اس خط کے بعد میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page