نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانا ظریف شہباز ندوی !
آپ کا خط مورخہ ۲۱ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ اس کے ساتھ آپ نے ایک عربی کتاب کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی روانہ کی ہے۔ اس صفحے کو پڑھنے سے بات واضح نہیں ہوتی۔ میں اصل کتاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم اصل عربی کتاب مجھے عاریتاً عنایت فرمائیں۔ آپ مولا نا محمد حسان ندوی کو یہ کتاب دے دیں۔ وہ مجھ کو کتاب پہنچادیں گے۔ میں اس کو پڑھنے کے بعد کتاب آپ کو لوٹا دوں گا۔
نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
کافی انتظار کے بعد جب مجھے ان کا کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے درج ذیل خط انھیں روانہ کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانا ظریف شہباز ندوی !
عرض یہ کہ آپ نے اپنے مطبوعہ مضمون میں یہ دعوی کیا تھا کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے حوالے کے ساتھ یہ واضح کیا کہ آپ کا یہ دعوی بے بنیاد ہے۔ موصوف کی کسی کتاب میں دار الدعوہ کا یہ تصور نہیں پایا جاتا۔ مگر آپ نے اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر ایک اور ناقص حوالہ پیش کر دیا۔ یہ ڈاکٹر طٰہ جابر العلوانی کی کتاب "الإسلام والتعايش السلمي مع الآخر" کے دو صفحات (صفحہ نمبر درج نہیں ) کی فوٹو کاپی ہے۔
مجھے ابھی تک اصل عربی کتاب نہیں ملی۔ تاہم آپ نے کتاب کے دو صفحات کی جو فوٹو کاپی بھیجی ہے اس کو میں نے بغور پڑھا۔ دوبارہ میں کہوں گا کہ ان مُرسلہ صفحات سے آپ کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر العلوانی کے یہاں دار الدعوہ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس کتاب میں ایک مقام پر دارِ دعوت کا لفظ موجود ہے، مگر صرف لفظ کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنف کے یہاں وہ تصور موجود ہے جس کو دار الدعوہ کہا گیا ہے۔ آپ نے مُرسلہ صفحات کے حسب ذیل جملے کی طرف اشارہ کیا ہے: ثم تنقسم الأرض من حيث كونها دارًِ إلى "دار إجابة" و "دار دعوة" وكلاهما "دار إسلام" (پھر زمین بحیثیت ایک دار کے، دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، دارِ اجابت اور دارِ دعوت، اور دونوں دارِ اسلام ہیں)۔ مصنف کے اس جملے میں دارِ دعوت کا لفظ ضرور ہے، لیکن اصل عبارت میں اس کا مفہوم بالکل واضح نہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ زمین دارا اجابت اور دارِ دعوت میں منقسم ہے، اور یہ دونوں ہی دار، بیک وقت دارِ اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues