Al-Risala · March 2007 · page 42

الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات

1 - ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ اسلام کے نظریاتی پہلو کو بیان کرتے ہیں۔ اسلام کا جو عملی پہلو ہے اس کو آپ بیان نہیں کرتے۔ آخر یہ تفریق کیوں۔

میں نے کہا کہ عمومی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔ میں نے اسلام کے تقریباً ہر موضوع پر لکھا ہے۔ مثلاً نماز اور روزہ اور حج جیسے موضوعات پر میری کئی کتابیں موجود ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ میں اسلام کے نظری پہلوؤں پر زیادہ زور دیتا ہوں۔ نظری پہلو سے میری مراد ہے اسلام کی داخلی اسپرٹ ، یعنی اسلامی طرزِ فکر پیدا کرنا ، لوگوں کے اندر اسلامی جذبہ ابھارنا ، اسلام کی صحیح اسپرٹ کو زندہ کرنا۔ یہ میری توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ آپ کو یہ بات قابلِ اعتراض اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ آپ ہمارے مشن کو امت کی سرگرمیوں سے الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے مشن کو امت کی عمومی سرگرمی میں شامل کر کے دیکھیں تو آپ کا اعتراض اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ملت مسلمہ کے احیاء کی تحریک عالمی سطح پر چل رہی ہے۔ اس میں امت کے تمام درد مند افراد شریک ہیں۔ میں نے اپنے مطالعے میں پایا کہ احیاء ملت کی یہ تحریکیں پچانوے فیصد کی حد تک اُسی پہلو پر چل رہی ہیں جس کو آپ اسلام کا عملی پہلو کہہ رہے ہیں۔ آپ دیکھیے تو ان میں سے کوئی نماز اور روزہ اور حج جیسے اسلامی اعمال کا نظام قائم کرنے میں مصروف ہے۔ کسی نے اسلام کے سماجی پہلوؤں پر اپنی توجہ لگا رکھی ہے۔ کوئی اسلام کے سیاسی ڈھانچے کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی مسجد اور مدرسے کے نظام کو قائم کرنے میں مصروف ہے۔ کوئی مسلمانوں کے خاندانی نظام کو اسلامی احکام پر تشکیل دینا چاہتا ہے۔ کوئی ملی مسائل ، یا کمیونٹی ورک کے میدان میں محنت کر رہا ہے، وغیرہ ۔ لیکن میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ عصری اسلوب میں اسلام کی اسپرٹ کو جگانے کا کام کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page