Al-Risala · March 2007 · page 46

الرساله مشن کے متعلق بعض سوالات

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۴۶

نصیحت کرتے ہوئے ان کی کمزوری بتائی جاتی۔ حالاں کہ قرآن کے اس تبصرے میں ایسا انداز نہیں ہے ۔ اس میں مشرکین مکہ کے جارحانہ اقدام کا سرے سے کوئی ذکر موجود نہیں، بلکہ اس آیت میں ساری ذمے داری مسلمانوں پر ڈال دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ احد کی شکست کسی دشمن کی سازش اور ظلم کا نتیجہ نہ تھی ۔ یہ شکست خود تمھاری اپنی کمزوری کا نتیجہ تھی۔

میں نے کہا کہ اگر آپ قرآن کے اس تبصرے کو درست سمجھتے ہیں تو آپ کو یقیناً الرسالہ کے انداز ہی کو صحیح انداز سمجھنا چاہیے۔ الرسالہ کا انداز خالص قرآنی انداز ہے، نہ کہ غیر معتدل انداز۔ میں نے کہا قرآن میں واضح طور پر یہ آیت موجود ہے : إن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئا (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو (مخالفین) کی کوئی بھی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس آیت سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے اصل مسئلہ سازش کا ہونا نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ اگر کسی گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہے تو یہ صبر اور تقویٰ ان کے لیے ہر سازش کے خلاف ایک چیک بن جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی مسلم گروہ کسی مخالف گروہ کی سازش کا نشانہ بنے تو قرآن کے مطابق، لازماً یہ یقین کرنا چاہیے کہ صبر اور تقویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ سازش کی موجودگی نقصان کا سبب نہیں، بلکہ صبر اور تقویٰ کی عدم موجودگی نقصان کا اصل سبب ہے۔ اس لیے تمام لکھنے اور بولنے والوں کو صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ جگانے پر مصروف ہونا چاہیے، نہ یہ کہ وہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف بے فائدہ طور پر احتجاج اور شکایت کی مہم میں لگ جائیں۔ صبر اور تقویٰ کی کامیابی کی واحد خدائی ضمانت ہے، جب کہ احتجاج اور شکایت کا طریقہ اپنانا، کامیابی کی اس واحد خدائی ضمانت سے اپنے آپ کو محروم کر لینا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی حکیمانہ بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اگر دونوں فریقوں کو نصیحت کی جائے تو نصیحت غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ نصیحت کے لیے ہمیشہ یک طرفہ کلام موثر ہوتا ہے، تاکہ سامع کی ساری توجہ صرف قابلِ اصلاح پہلو پر پڑے، اس کی توجہ اصل مرکز سے ہٹنے نہ پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page