Al-Risala · April 2007 · page 4

Global warming is man-made

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴

ہے۔ یہاں اُن میں سے صرف بعض علامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔ حدیث میں آیا ہے کہ: إذا كان يوم القيامة أدنیت الشمس من العباد (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 3) یعنی جب قیامت کا دن قریب ہوگا تو سورج، انسان کے نزدیک آجائے گا اور اس کی وجہ سے زمین کی گرمی بہت بڑھ جائے گی۔ اس حدیث میں عین وہی بات ہے جو مذکورہ سروے میں بتائی گئی ہے۔ یہ واضح ہو کہ سورج کے قریب آجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود سورج کا آتشیں گولا، فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے گا۔ کیوں کہ سورج اگر خود فاصلے کے اعتبار سے قریب آجائے تو زمین پر انسانی زندگی ہی سرے سے ختم ہو جائے گی۔ یہ قربت علامتی معنوں میں ہوگی۔ یعنی خود سورج قریب نہیں آئے گا، بلکہ سورج کی گرمی انسان کے قریب آجائے گی۔ درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

2۔ قیامت سے پہلے جب سورج قریب آجاۓ گا تو انسان کا کیا حال ہوگا، اُس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: يكون الناس على قدر أعمالهم فى العرق، فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حقويه، ومنهم من يلجمهم العرق إلجاماً۔ وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده الى فيه (مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 5540) یعنی اُس دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق، پسینہ پسینہ ہوں گے ۔ اُن میں سے کوئی ٹخنے کے بقدر پسینے میں ڈوب جائے گا، اور اُن میں سے کوئی گھٹنے کے بقدر، اور ان میں سے کوئی اپنی کمر کے برابر، اور اُن میں سے کوئی اپنے منھ تک پسینے میں ڈوب جائے گا۔ اس روایت میں 'عَرَق' کا لفظ آیا ہے۔ 'عرق' کے معنی عام طور پر پسینے کے لیے جاتے ہیں، لیکن 'عرق' کا اصل مفہوم نچوڑا ہوا پانی (squeezed water) ہے۔ پسینے کو 'عرق' اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کے پورے جسم سے نچڑ کر نکلتا ہے۔ اسی طرح انگور سے نچوڑی ہوئی شراب کو 'عرق' کہا جاتا ہے، وغیرہ۔

اس روایت میں دراصل علامتی طور پر اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں جب

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page