Global warming is man-made
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۵
زمین پر سورج کی گرمی زیادہ پڑنے لگے گی تو قطبین پر جمی ہوئی برف اور پہاڑوں کے گلیشیر پگھلنے لگیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہو جائے گی۔ اس بنا پر سمندروں کے ساحلی علاقوں میں بستیاں ڈوبنے لگیں گی۔ زمین کی سطح مرتفع کے لحاظ سے یہ پانی کہیں زیادہ بلند ہو جائے گا اور کہیں کم۔ سطح ارض کی بلندی اور پستی کی نسبت سے زمین کے کچھ حصے کم متاثر ہوں گے، کچھ زیادہ اور کچھ بالکل ڈوب جائیں گے۔
3- اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا۔ اس سلسلے میں روایت کے الفاظ یہ ہیں: یملأ الدّخان ما بین المشرق والمغرب (القرطبی، جلد 16، صفحہ 131) یعنی قیامت سے پہلے ایک دھواں ظاہر ہوگا جو پورب سے پچھم تک ہر طرف بھر جائے گا۔
اس روایت میں واضح طور پر اس جدید ظاہر ے کا ذکر ہے جو جدید صنعت کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، یعنی فضائی کثافت (air pollution)۔ اس قسم کی فضائی کثافت قدیم زمانے میں موجود نہ تھی اور نہ اس کا کوئی تصور پایا جاتا تھا۔ یہ روایت بلا شبہہ اُس جدید ظاہر ے کی پیشین گوئی ہے جس کو صنعتی سرگرمیوں کی پیدا کردہ فضائی کثافت کہا جاتا ہے۔
4- اسی طرح حدیث میں قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ایک علامت اس طرح بیان کی گئی ہے: يوشك الفرات أن يحسر عن جبل من ذهب، فإذا سمع به الناس ساروا إليه، فيقول مَنْ عنده: لئن تركنا الناس يأخذون منه ليذهبن به كلّه۔ قال : فيقتتلون عليه فيقتل من كلّ مأۃ تسعة وتسعون (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، جلد 18، صفحہ 19) یعنی عن قریب ایسا ہوگا کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگا۔ جب لوگ اُس کو سنیں گے تو وہ اُس کی طرف چلیں گے۔ اُس کے پاس جو شخص ہوگا، وہ کہے گا کہ ــــ اگر ہم، لوگوں کو اس میں سے لینے دیں تو وہ سارا کا سارا لے جائیں گے۔ پھر وہ اُس پر قبضہ کرنے کے لیے باہم جنگ کریں گے۔ پھر اِس جنگ میں ننانوے فیصد لوگ قتل کر دیے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues