کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳
قرآن ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں اترا۔ اُس وقت کا غذ وجود میں آچکا تھا۔ یہ کا غذ بعض مخصوص درختوں کے ریشے سے لے کر دستی صنعت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ اُس کو پائرس (Papyrus) کہا جاتا ہے۔ قرآن کا کوئی حصہ جب بھی اُترتا تو اُس کو اس کا غذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ جس کو عربی زبان میں قرطاس (الانعام: 7) کہا جاتا ہے۔ اِسی کے ساتھ لوگ قرآن کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتے تھے۔ کیوں کہ اُس وقت قرآن ہی واحد اسلامی لٹریچر تھا۔ قرآن کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اور دعوہ ورک کے تحت اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن ایک بیک وقت لکھا بھی جاتا رہا اور اِسی کے ساتھ اس کو یاد بھی کیا جاتا رہا۔
پیغمبر اسلام کے آخری زمانے تک قرآن کو محفوظ کرنے کا یہی طریقہ جاری رہا۔ آپ کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی، اس کے بعد ابو بکر صدیق اسلام کے پہلے خلیفہ بنے۔ انھوں نے با قاعدہ اہتمام کے تحت، قرآن کا ایک مجلد نسخہ بنایا۔ یہ نسخہ قدیم زمانے کے کا غذ یا قرطاس پر بنایا گیا تھا۔ یہ مجلد قرآن چو کور صورت میں تھا۔ چناں چہ اس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ اس طرح قرآن، خلیفہ اول کے زمانے میں مجلد کتاب کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں اس مجلد قرآن کے مزید نسخے تیار کیئے گیے اور اس کو مختلف شہروں میں بھیج دیا گیا۔ یہ نسخے شہر کی جامع مسجدوں میں موجود رہتے تھے۔ لوگ اُن کو پڑھتے بھی تھے اور اُن سے مزید نسخے تیار کرتے تھے۔ کتابتِ قرآن کا یہ سلسلہ انیسویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور ساتھ ہی کا غذ بھی جدید صنعتی طریقے پر بڑی تعداد میں تیار کیا جانے لگا۔ اس طرح انیسویں صدی میں قرآن کو باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپنے کا آغاز ہو گیا۔ چھپائی کے طریقوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ اِسی کے ساتھ قرآن کے مطبوعہ نسخے بھی زیادہ بہتر طور پر تیار ہونے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے اتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر لائبریری میں اور ہر مارکیٹ میں اس طرح وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ہر انسان قرآن کے چھپے ہوۓ خوب صورت نسخے حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ گُرۂ ارض کے کسی بھی مقام پر ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues