Al-Risala · April 2007 · page 32

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲

لفظ سے خطاب کیا گیا اور کہا گیا کہ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ مگر واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ماننا ہوگا کہ یہ ہیمرنگ کی زبان تھی۔ اگر ان الفاظ کا مطلب یہ ہوتا کہ اہل مکہ کا کفر متحقق ہو چکا ہے، وہ اب خدا کی نظر میں ’’کافر‘‘ قرار پا چکے ہیں، اب خدا کے نزدیک ان کے لیے دین کفر ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

اگر یہ بات ہوتی تو اہل مکہ کفر پر جیتے اور کفر پر مرتے، مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ جنگ بدر میں مارے گیے اور جو لوگ بچے، اُن سب نے بعد کو اسلام قبول کیا۔ اسی عملی پہلو کو سامنے رکھ کر سورہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سورہ الکافرون کے الفاظ ہیمرنگ کی زبان میں تھے، وہ قانونی حکم کی زبان میں نہ تھے۔

قرآن کے اسلوب کے بارے میں یہ بات بے حد اہم ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اس اصول کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے کہ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں۔ قرآن میں جہاں بظاہر شدت ہے، وہ دعوتی حکمت کی بنا پر مخاطب کی ذہنی ہیمرنگ کے لیے ہے۔ قرآنی اسلوب کے بارے میں اس اصولی بات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کو صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔ قرآن خدا کی کتاب ہے، جو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔ قرآن ایک مجموعے کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ تئیس سال کی مدت میں متفرق اجزاء کی صورت میں وہ اتارا گیا۔ پیغمبر اسلام مکہ میں تھے۔ جب کہ 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کے بعد برابر اس کے مختلف حصے آپ اُترتے رہے۔ قرآن کا آخری حصہ آپ پر 632 عیسوی میں اترا، جب کہ آپ مدینہ میں تھے۔ قرآن کا یہ نزول فرشتہ جبریل کے ذریعے ہوتا تھا۔ آخر میں خود فرشتہ جبریل کی تعلیم کے مطابق، قرآن کے مختلف حصوں کو ایک مجموعے کی شکل میں مرتب کیا گیا۔

قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں، کچھ بڑی سورتیں ہیں اور کچھ چھوٹی سورتیں ہیں۔ آیتوں کی تعداد تقریباً ساڑھے چھ ہزار ہے۔ تلاوت کی ضرورت کے لیے قرآن کو تیس پاروں اور سات منزلوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page