نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
میرے اس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
محترم ومکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایک اہم غلطی کی طرف میری تو جہ دلائی۔ میں اپنے پبلشر کو پیغام دے رہا ہوں کہ ان کے پاس جتنے نسخے بھی موجود ہیں، ان کے متعلقہ صفحے سے استاذ حسن الہضیبی کا نام کاٹ دیں۔ فی الوقت یہ کتاب صرف پانچ سو کی تعداد میں چھپی ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے کم ہی نسخے نکلے ہوں گے۔ انشاء اللہ جب اس کتاب کا اگلا ایڈیشن شائع ہوگا تو اس میں نہ صرف یہ کہ اس غلطی کی اصلاح کردی جائے گی بلکہ اس میں جناب حسن الہضیبی کے بارے میں تبصرہ بھی اس موضوع سے علیحدہ درج کیا جائے گا۔ انشاء اللہ اگلے ایڈیشن میں موجودہ ایڈیشن کی اس غلطی کا تذکرہ بھی ہوگا تا کہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک یہ بات پہنچ جائے۔
آپ نے میرا عذر قبول نہیں فرمایا حالانکہ میری بات بالکل حقیقت پر مبنی تھی۔ میں ایک دور افتادہ چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں جہاں پریس اور کمیونیکیشن کا وہ حال نہیں ہے جو بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ جب بھی آپ کا کوئی نمائندہ لاہور آئے تو وہ کتاب مس پلیس ہونے سے متعلق ذمے دار افراد سے خود اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ والسلام ۱۹ فروری، ۲۰۰۶ آپ کا مخلص ڈاکٹر محمد فاروق خاں ان کے اس خط کے بعد میں نے حسب ذیل خط ان کو روانہ کیا :
برادر محترم ڈاکٹر محمد فاروق خاں!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۱۹ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ آپ نے اپنی تحریر کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس کو صرف’’ایڈیشن کی غلطی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ایڈیشن کی غلطی کا لفظ ایک مبہم لفظ ہے۔ اس سے غلطی کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہوتی۔ آپ کو غیر مبہم انداز میں یہ لکھنا چاہیے کہ جو الفاظ آپ کی کتاب میں چھپے ہیں وہ آپ نے غلط طور پر لکھ دیے تھے، یا آپ کے کسی قصد کے بغیر وہ اتفاقاً اپنے آپ ہی اس میں چھپ گیے۔ میرے نزدیک، آپ کی کتاب میں جو غلطی کی گئی ہے وہ یقینی طور پر طباعت کی غلطی نہیں ہے بلکہ وہ خود مصنف کی اپنی تحریری غلطی ہے۔ میں دوبارہ عرض کروں گا کہ آپ متعین
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues