Al-Risala · April 2007 · page 37

یہود کی حیثیت

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷

نسل کے بہت سے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور بعد کے زمانہ میں بھی۔ یہودی مردوں اور عورتوں کے قبولِ اسلام کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

جب یہودی نسلوں میں برابر ایسے افراد نکل رہے ہوں جو توبہ کریں اور دینِ حق کو اپنا دین بنائیں، ایسی حالت میں دعوت کے نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں ہو سکتا کہ ان سے نفرت کرکے انھیں مستقل طور پر اپنے سے دور کر دیا جائے۔

قرآن کی سورہ الفاتحہ میں المغضوب علیہم کا لفظ آیا ہے۔ عام طور پر اس کی تشریح میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں مگر یہ صحیح نہیں، اس میں ایک صفت کا ذکر ہے نہ کہ کسی خاص نسل کا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے ذاتی فعل کی بنا پر مغضوب قرار پا سکتا ہے، یہودی بھی اور غیر یہودی بھی۔ حتیٰ کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنے فعل کی بنا پر اس کے مستحق قرار پائیں، مگر کسی قوم کی تمام نسلوں کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page