Al-Risala · April 2007 · page 38

تقابلی طریق مطالعہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸

تقابلی طریق مطالعہ

عربی زبان کا ایک بامعنی مثل ہے: تُعرف الاشیاء بأضدادها (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اسی بات کو المتنبی (وفات: 965) نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: وبضدها تتبين الأشیاء۔ مطالعہ کے اسی فطری اسلوب کو انگریزی ادیب ولیم شیکسپیر (وفات: 1616) نے اس طرح بیان کیا ہے— ہم تقابل کے ذریعہ باتوں کو سمجھتے ہیں:

In comparison that we understand

یہ علمی طریق مطالعہ کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ اسلام کے مطالعہ کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دوسرے علوم کے مطالعہ کے لیے۔ یہاں قرآن اور سنت سے اس معاملے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ اس وقت جو ابتدائی احکام قرآن میں اترے، اُن میں سے ایک حکم یہ تھا: وربک فکبر (المدثر: 3) یعنی اپنے رب کی تکبیر کر۔

اب اس آیت کو سمجھنے کے لیے تقابل کا طریقہ استعمال کیجئے ۔ اسلام کے دورِ اول میں جب مکہ میں یہ آیت اتری اس وقت مشرکین نے توحید کے گھر کعبہ پر قبضہ کرکے وہاں 360 بت رکھ دئے تھے۔ یہ واضح طور پر ایک ناقابل برداشت فعل تھا۔ ایسی حالت میں بظاہر یہ حکم اترنا چاہیے تھا کہ: والأصنام فدمر (بتوں کو توڑ ڈالو) مگر اس وقت قرآن میں تد میر اصنام کے بجائے تکبیر رب کا حکم نازل ہوا۔

اس تقابل پر غور کیجئے تو ایک نہایت گہری حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک یا دینی دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ افکار میں تبدیلی کی پرامن جدوجہد سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، نہ کہ نظام یا ظاہری ڈھانچہ کو تشدد کے ذریعہ توڑنے سے۔ اس ربانی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے موجودہ زمانہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page