Al-Risala · May 2007 · page 2

روحانی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲

روحانی شخصیت کی تعمیر

قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک فلاح یاب انسانوں کی جو درجہ بندی ہے، اُس میں بنیادی طور پر تین گروہ شامل ہیں— رسول، اصحاب رسول، اخوان رسول۔ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے وحیِ خداوندی کی سطح پر سچائی کو جانا۔ اصحاب رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت (companionship) سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اخوان رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو بعد کے زمانے میں ارتقا یافتہ شعور کے ذریعے، رسول اور اصحاب رسول کے زمانے کو اس طرح دریافت کریں کہ وہ دوبارہ عملاً پیغمبر کی زندہ صحبت (living companionship) کا تجربہ کرسکیں۔

رسول، عام انسانوں میں سے کوئی منتخب انسان ہوتا ہے۔ اُس پر خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے سچائی کا علم اترتا ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق، آدم پہلے پیغمبر تھے۔ آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں نے یکساں درجے میں خدائی سچائی کا اعلان کیا۔ لیکن انھیں اپنے زمانے میں ساتھیوں کی کوئی بڑی جماعت نہ مل سکی۔ چناں چہ یہ پیغمبر مذہبی عقیدے کا حصہ تو بنے، لیکن وہ مذہبی تاریخ کا حصہ نہ بن سکے۔

سلسلہ نبوت کے آخری فرد محمد بن عبداللہ تھے۔ وہ 570ء میں عرب میں پیدا ہوئے، 610ء میں ان کو پیغمبری ملی۔ 632ء میں ان کی وفات ہوئی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو استثنائی طور پر یہ موقع ملا کہ آپ کو خود اپنے زمانے میں طاقت ور ساتھیوں کی ایک ٹیم حاصل ہوگئی۔ یہ لوگ تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھے۔ اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ خدائی مذہب کو تاریخِ بشری کا ایک مستند حصہ بنا دیں۔ اور اس طرح بعد کی نسلوں کے لیے ایک ابدی نمونے کا مقام حاصل کر لیں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اگر نفسیات کی زبان میں بیان کریں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ ایک اسپرچول جینیس (spiritual genius) تھے۔ رسول کا کام دراصل یہی ہوتا ہے کہ وہ مادی انسان

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page