Al-Risala · May 2007 · page 3

روحانی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳

کو رو حانی انسان بنائے ۔ رسول اس لیے آتا ہے تا کہ وہ انسان کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرے۔ خدا کا کریشن پلان یہی ہے کہ انسان اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اسپرچول انسان بنائے۔ اور اس طرح اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق ثابت کرے۔

اسپرچولٹی کے لیے قرآنی لفظ ربانیت (آل عمران : 79) ہے۔ حقیقی اسپرچول انسان وہ ہے جو ربانی انسان ہو۔ اسپرچولٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو مراقبہ(meditation) اور یوگا ورزش کے ذریعے حاصل کی جائے۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسپرچولٹی کا کم تر فارم(reduced form) ہیں۔ اسپرچولٹی کا واحد ذریعہ رزق خداوندی (آل عمران : 37) ہے۔ یہ دراصل روحانی صحت کے اعتبار سے اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کا انسان بنانا ہے۔ یہ ایک عظیم ذہنی عمل ہے جو کسی انسان کے اندر آفاقی عمل کے دوران انجام پاتا ہے۔

اسپرچول انسان بننا، امکانی طور پر ہر عورت اور مرد کے لیے ممکن ہے۔ لیکن اسپرچول انسان بننے کے لیے بے پناہ قربانی دینی ہوتی ہے۔ ہر شخص یہ قربانی نہیں دے سکتا۔ اس لیے ہر شخص حقیقی معنوں میں اسپرچول انسان بھی نہیں بن سکتا۔ اس لیے خدا نے اس مقصد کے لیے یہ نظام بنایا کہ وہ بعض افراد کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے ایسے حالات فراہم کرتا ہے کہ وہ اسپرچول جائنٹ (spiritual giant) بن سکے۔ عام انسانوں کا کام یہ ہے کہ وہ اسپرچول جائنٹ کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اُس کی غیر مشروط رہنمائی میں دے کر اعلیٰ اسپرچولٹی کا درجہ حاصل کریں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے گویا اسی قسم کے ایک اسپرچول جائنٹ تھے۔ آپ کے ہم عصر لوگوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ایسے افراد نکلے جنھوں نے اس غیر معمولی معرفت کا ثبوت دیا کہ انھوں نے پیغمبر کو خالص جوہر (merit) کی سطح پر پہچانا۔ انھوں نے پیغمبر کو اس کے ابتدائی دور میں اُس وقت دریافت کیا جب کہ ابھی وہ پُر عظمت تاریخ کا مینار نہیں بنا تھا۔ یہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہ حال کے اندر مستقبل کو دیکھنا ہے۔ پیغمبر کے ہم عصر اہل ایمان نے اس مشکل ترین صفت کا ثبوت دیا، اس لیے وہ اصحابِ رسول کے ابدی مقام پر سرفراز کیے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page