روحانی شخصیت کی تعمیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۹
کے اقوال یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے ایک منظر کو دیکھا اور پھر آپ نے اُس کو سبق میں کنورٹ کرکے ایک نصیحت کی بات کہی۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ اس قول کو ری کنورٹ کرکے دوبارہ ابتدائی مشاہدے سے جوڑ کر دیکھیں ۔ جب ہم ایسا کریں گے تو گویا ہم نے اُس لمحے کو زندہ کیا جب کہ پیغمبر بنفسہ موجود تھے، اور اپنے ساتھیوں کو بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ فطرت کے مشاہدات کو روحانی تجربات میں کنورٹ کرکے اپنے تزکیے کا سامان کر سکتے ہیں۔
مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: مثل المؤمن كمثل خامة الزرع ۔ یہاں ہم کامن سنس سے یہ اضافہ کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے کہ راستے میں ایک نرم پودا دکھائی دیا۔ وہ ہوا کے جھونکے کے مقابلے میں اکڑتا نہیں تھا بلکہ جھک جاتا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ مومن بھی اسی طرح ایک نرم مزاج والا انسان ہوتا ہے۔ اُس کے اندر ٹکراؤ کا مزاج نہیں ہوتا بلکہ ایڈجسٹمنٹ کا مزاج ہوتا ہے۔
اس مزاج کا فائدہ مومن کو یہ ملتا ہے کہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر وہ اپنے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کے عمل کو بلا روک جاری رکھتا ہے۔ اس کے وقت اور اس کی طاقت کا کوئی بھی لمحہ کسی غیر متعلق کام میں ضائع نہیں ہوتا— اس طرح اقوالِ رسول میں اپنے کا من سنس سے اُس کے ماحول کا تصور کرکے ہم اپنے آپ کو گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں پہنچا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ ہوگا کہ جو چیز اصحابِ رسول کو واقعاتی طور پر حاصل تھی، وہ ہم کو تصوراتی طور پر حاصل ہو جائے گی۔ اس پہلو سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ: مَنْ كان في بيته مجموعة من الاحاديث كأنما هو في صحبة النبی صلی اللہ علیہ وسلم (جس کے گھر میں احادیث رسول کا کوئی مجموعہ موجود ہو، وہ گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جی رہا ہے)۔