روحانی شخصیت کی تعمیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۸
انقلابی اسلوب ہے جو مطالعہ حدیث کو صحبت رسول کے ہم معنی بنا دینے والا ہے۔ اس معاملے کو چند مثالوں کے ذریعے سمجھیں۔
پیغمبر اسلام کے صحابی ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ: ولقد تر کنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما یتقلب طائر جناحیہ فی السماء إلا ذکر لنا منہ علماً (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 162) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی اگر آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تو آپ اُس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔
اس مثال میں قولِ رسول کے ساتھ اس کا پس منظر بھی موجود ہے۔ اس پر غور کر کے ہم بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں اس طرح کے واقعات پیش آئے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے۔ اس دوران آپ نے دیکھا کہ ایک چڑیا فضا میں اڑتی ہوئی جارہی ہے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو فطرت کے اس ظاہرے کی طرف متوجہ فرمایا۔ غالباً آپ نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہوگا کہ اس کو دیکھو اور قرآن کی اس آیت پر غور کرو: أو لم يروا إلى الطير فوقهم صفت ويقبضن، ما يمسكهنّ إلا الرحمن، إنه بكل شيء بصير (الملک : 19) یعنی کیا وہ پرندوں کو اپنے اوپر نہیں دیکھتے، پر پھیلائے ہوئے، اور وہ ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو اُن کو تھامے ہوئے ہو۔ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ چڑیا فطرت کا ایک انوکھا ظاہر ہ ہے۔ اُس پر غور کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ چڑیاں کی ساخت کو مخصوص طور پر اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فضا میں اُڑ سکے۔ سکے۔اِسی چڑیا کی نقل کر کے موجودہ زمانے میں ہوائی جہاز بنائے گیے ہیں۔ مچھلی کا جسم پانی کے اعتبار سے بنایا گیا ہے اور چڑیا کی ساخت فضا کے اعتبار سے اور چوپائے کی ساخت سطح زمین کے اعتبار سے، وغیرہ۔ یہ مختلف ڈیزائن اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات اتفاقی طور پر وجود میں نہیں آئی بلکہ وہ ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) کا نتیجہ ہے۔
کچھ اور حدیثیں ہیں جن میں قول تو موجود ہوتا ہے لیکن اس کا پس منظر موجود نہیں ہوتا۔ اس قسم