حلال اور حرام کا تصور
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱
حرام (unlawful) در اصل اِسیی ڈسٹریکشن کا مذہبی نام ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو مذہب میں حرام یا منع کیا گیا ہے، وہ سب اِس لیے حرام یا منع ہیں کہ وہ آدمی کے ذہن کو اصل نشانے سے غیر مفید طور پر ہٹا دیتی ہیں، اور اِس طرح آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل، وقتی طور پر یا مستقل طور پر، رُک جاتا ہے۔ اِس ڈسٹریکشن کی دو قسمیں ہیں ــ حرام اور مکروہ۔ موجودہ دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مکمل ڈسٹریکشن (total distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، ایسی چیزوں کو مذہب میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ کچھ اور چیزیں ہیں جو جُزئی ڈسٹریکشن (partial distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، اُن کو حرام تو نہیں قرار دیا گیا، لیکن اُن کو مکروہ بتایا گیا۔ یعنی غیر مطلوب یا قابل پرہیز۔ حرام چیزوں میں سے چند چیزیں یہ ہیں ــ بت پرستی، قتل، زنا، شراب، خنزیر، جوا، وغیرہ۔ جو چیزیں مکروہ قرار دی گئی ہیں، اُن میں سے چند چیزیں یہ ہیں ــ لڑائی جھگڑا، عورت مرد کا اختلاط، شاپنگ، آؤٹنگ، رقص و سرود، بے فائدہ تفریحات، پان سگریٹ، فیشن، میک اپ، پُر تکلف دعوتیں، سامانِ عیش، تحفے تحائف کی رسم، احباب اور اعزہ کی بے معنی دھوم، سماجی تکلفات اور تقریبات، وغیرہ۔ آدمی کا ذہن فطری طور پر جامد ذہن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی مطالعہ، مشاہدہ، انٹلکچول ایکسچینج، غور وفکر، عبرت پذیری، وغیرہ کے ذریعہ جو سیکھتا ہے، وہ مسلسل طور پر انسان کی ذہنی ترقی میں مددگار بن جاتا ہے۔ ذہنی ترقی کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ یہاں تک کہ وہ سونے کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے۔ جب بھی آدمی مذکورہ قسم کے محرمات یا ممنوعات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ڈسٹریکشن کا لمحہ ہوتا ہے۔ وہ اُس کے اندر اِس فکری پراسس کو، وقتی یا ابدی طور پر، روک دیتا ہے جو آدمی کے ذہنی ارتقا کے لیے ضروری ہے۔
اِس نظریے کو کسی بھی شخص کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً جو لوگ بزنس یا تفریحات وغیرہ میں زیادہ مشغول رہتے ہیں، اُن سے بات کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ وہ اپنے پروفیشن میں بظاہر کامیاب ہیں، لیکن وہ فکری ارتقا کے معاملے میں بالکل پس ماندہ ہیں۔ فکری موضوعات پر اُن سے بات کیجیے تو آپ کو فوراً محسوس ہوگا کہ وہ ذہنی پس ماندگی (intellectual backwardness) کا شکار ہیں۔