خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸
مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے ، یہ کنڈ یشننگ ، آدمی کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں بے آمیز رائے قائم کر سکے ۔ مگر یہ حقیقت صرف بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں معلوم ہوسکی اور وہ بھی صرف پچاس فیصد ۔ یہ واقعہ پھر بھی لامعلوم رہا کہ کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اس کو دوبارہ فطری سوچ (natural thinking) پر لایا جا سکتا ہے ۔
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک قابل اعتماد گائیڈ لائن ہے ۔ مذکورہ سوال کا جواب قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے: ومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير (الحج: 8) یعنی لوگوں میں کوئی شخص ہے جو اللہ کی بات میں جھگڑتا ہے ، علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سائنس میں ناکامی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے گائڈنس کے بغیر انسانی زندگی کو سمجھنا چاہا اور اس کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر انسانی سائنس ترقی سے محروم رہی ۔ کیوں کہ جب گائڈنس موجود نہ ہو تو آدمی کو اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا ، اور جب حقیقی نقطہ آغاز کو جانے بغیر سفر شروع کیا جائے تو ایسا سفر کبھی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔
خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر
کسی پیچیدہ مشین کو بنانے والا انجینئر ہی اس کی گائڈ بک دے سکتا ہے ، یہی معاملہ موجودہ دنیا کا ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر زندگی کا جو تصور قائم کیا جائے گا، وہ حقیقت واقعہ کے مطابق نہ ہوگا ۔ اور جو منصوبہ حقیقت واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کے لیے ناکامی یقینی ہے۔ خدا کی کتاب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو ٹسٹ کے لیے بنایا ہے۔ اس دنیا سے انسان کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو امتحان ہال سے ایک طالب علم کی ہوتی ہے۔ امتحان ہال میں کوئی طالب علم اس لیے جاتا ہے کہ وہاں وہ مطلوب ٹسٹ دے کر اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت