Al-Risala · May 2007 · page 17

Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷

بغیر ہدایت (History of Withouts)

نظریہ ارتقا کو ماننے والے لوگ زمین پر انسان کی تاریخ کو لاکھوں سال قدیم بتاتے ہیں، لیکن تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق، زمین پر انسان کی عمر بہ مشکل پچیس ہزار سال پیچھے تک جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلوؤں میں بہت زیادہ فرق ملے گا_ انسان نے مادی چیزوں میں تو بہت زیادہ ترقی کی، لیکن انسانی علوم میں لمبی مدت گزرنے کے باوجود کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ میٹریل ترقی کا خواب انسان نے بڑی حد تک پورا کر لیا، لیکن ذہنی اور روحانی ترقی کی سمت میں ابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اسی کا ایک اظہار درج ذیل کتاب ہے جو پہلی بار 1935 میں چھپی۔ اس کا نام یہ ہے:

Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown

اصل یہ ہے کہ ترقی کے لیے ہمیشہ گائڈ لائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ میٹریل ورلڈ یا فزیکل ورلڈ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی گائڈ لائن خود ان اشیا کے اندر موجود ہے۔ تجربے کے ذریعے اس قانون کو دریافت کر کے ترقی کا سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً سواری کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے انسان گھوڑے پر سواری کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہیے دار گاڑی بنائی۔ اس کے بعد سمندری جہاز بنائے گئے۔ پھر اس نے بائسکل تیار کی۔ اس کے بعد موٹر کار بنی اور پھر ہوائی جہاز اور راکٹ تیار کیے گئے۔ ان تمام سواریوں کو بنانے کے لیے گائڈ لائن لا آف نیچر کی صورت میں خود ان چیزوں کے اندر موجود تھی جس کو استعمال کر کے مختلف قسم کی سواریاں بنائی گئیں۔

مگر انسان کے بارے میں سب کچھ لامعلوم تھا۔ مثال کے طور پر انسان جب پیدا ہوتا ہے اور سماج کے اندر رہنا شروع کرتا ہے تو اس کے ذہن کی کنڈیشننگ ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ ہر آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page