ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰
ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كل مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهوّدانه أو ينصرانه، أو يمجسانه (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) یعنی ہر پیدا ہونے والا اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا مسیحی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ اب خود سائنسی ریسرچ کے تحت ثابت ہو چکی ہے۔ اب خالص علمی طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اِس ماحول کے مطابق، ان کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ پر اس ہر آدمی کے ذہن میں جاری رہتا ہے اور کوئی آدمی بطور خود یہ جان نہیں پاتا کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر کنڈیشننگ کا عمل جاری ہے۔
کنڈیشننگ کا یہ معاملہ پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔ امریکا میں نفسیات کے پروفیسر واٹسننن (J. B. Watson) نے اس موضوع پر لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں اپنی مشہور کتاب بہیو یرازم (Behaviourism) چھاپی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی لازمی طورپر کنڈیشننگ کا معمول بنتا ہے، کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ واٹس کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عرصے تک وہ یونیورسٹیوں میں نفسیات کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔
لیکن واٹس کے نظریے میں ایک بھیانک کمی تھی۔ اس نے یہ فرض کر لیا کہ یہ کنڈیشننگ جو ہوتی ہے، وہی اصل صورت حال ہے۔ اس نظریے کے مطابق، انسانی شخصیت کی تشکیل وتعمیر نیچر (nature) سے نہیں ہوتی بلکہ نرچر (nurture) سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو آدمی جیسا بن گیا، وہی اس کی ابدی شخصیت ہے۔ اس کو دوبارہ اس کی ابتدائی فطرت کی طرف نہیں لوٹایا جا سکتا۔ یہ نظریہ اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش کیا گیا، لیکن عملاً وہ پوری تاریخ پر چھایا رہا۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان جو عورت اور مرد پیدا ہوئے، وہ سب اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ