Al-Risala · May 2007 · page 21

ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

ان کے لیے تفکیری عمل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کریں، وہ اپنے ذہن کے اوپر سے مصنواعی پردوں کو ہٹا کر اپنے آپ کو اپنی اصل فطرت کی طرف واپس لے جائیں۔ خالق نے خارجی دنیا میں پیاز کی صورت میں اس معاملے کی ایک مادی مثال رکھ دی تھی۔ پیاز اشارے کی زبان میں لوگوں کو بتا رہی تھی کہ پہلے اپنے ذہن کے خارجی پردوں کو ہٹاؤ، اس کے بعد ہی تم چیزوں کو اُن کی بے آمیز صورت میں سمجھ سکتے ہو۔ مگر انسان نے نہ پیاز کی اس مثال سے سبق سیکھا، اور نہ پروفیسر واٹسن اور ان کے ہم نو اس حقیقت کو دریافت کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ بے خبری کے راستے پر چلتی رہی۔

مثال کے طور پر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تمام سیاسی، یا غیر سیاسی تحریکیں ردعمل کی تحریکیں نظر آتی ہیں۔ روسو کی تحریک، بادشاہت کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ مارکس کی تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ جمال الدین افغانی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ گاندھی کی تحریک برٹش اقتدار کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ آیت اللہ خمینی کی تحریک شاہ ایران کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ سید قطب کی تحریک یہودیوں کی زائن ازم (Zionism) کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی، وغیرہ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ردعمل کی تحریک ہمیشہ منفی ذہن کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کسی کے بارے میں نفرت میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر وہ اس کے خلاف ردعمل کی تحریک چلانے لگتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ تمام عورت اور مرد کسی نہ کسی اعتبار سے نفرت میں جیتے رہے، وہ مثبت نفسیات میں جینے والے نہیں بنے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ کنڈیشننگ کے معاملے سے بے خبر تھے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر وہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں سکتے، جب کہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھنا ہی مثبت طرز فکر کی پہلی شرط ہے۔ ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت روحانیت(spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page