ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳
بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکری عمل ہے، اسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے، وہ مبہم بے خودی جیسے کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔
اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میں انسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کوروحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی۔ اور جو اصل روحانیت تھی اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کرسکا۔ تاریخ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔ تراجم۔ ’تذکیر القرآن‘ ’تذکیر القرآن‘ کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں۔ تیلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنّڑ، نیز مختلف عالمی زبانوں۔ جرمن، فرنچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔ جو حضرات ’تذکیر القرآن‘ کے ترجمہ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اِس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔