Al-Risala · May 2007 · page 22

ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲

حلقے میں الگ الگ لیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً مسٹزم(Mysticism) اور مراقبہ (Meditation) اور تصوف(Sufism)، وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد (ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقاء جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز ۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے ۔ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ اب یہ قطعیت کے ساتھ معلوم ہو چکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن (mind) ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون (circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرساله، نومبر 2004، صفحہ 23؛ جون 2005، صفحہ 6؛ فروری 2006، صفحہ 28؛ اگست 2006، صفحہ (33)

یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقاء ۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقاء۔

جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام تر قیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page