Al-Risala · May 2007 · page 36

United we stand, divided we fall.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

آپ اس حدیثِ رسول کو اپنے ذہن میں ہمیشہ تازہ رکھیں : مَنْ شَذَّ شُذَّ إِلَى النَّارِ (الترمذي، کتاب الفتن) یعنی جو شخص اجتماعیت سے الگ ہوا، وہ آگ میں جائے گا۔ یہ حدیث بہت اہم ہے۔ اس حدیث میں اختلاف سے مراد نفسیاتِ اختلاف ہے، نہ کہ مجرد گروہی اختلاف۔ یعنی اصل برائی عملاً کسی گروہ سے کٹنا نہیں ہے، بلکہ اختلاف برپا کر کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ اس لیے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ کبھی بھی اختلافات کو عذر (excuse) بنا کر دعوتی مشن سے الگ نہ ہوں۔ خدا اس معاملے میں آپ کے کسی بھی عذر کو قبول نہیں کرے گا۔

کوئی آدمی جب کوئی رائے قائم کرتا ہے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اُسی کی رائے درست ہے۔ ایسا صرف اُس کی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی لیے بجاطور پر کہا گیا ہے کہ ــ کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی قربانی اپنی رائے کی قربانی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنی رائے کی قربانی دینی ہوگی۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی قربانی ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس کی قیمت پر آپ متحد ہو کر اپنا دعوتی فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ نیا فیصلہ دعوتی کام کے دوران آپ کو بار بار نیا فیصلہ لینا ہوگا۔ نئے نئے مسائل کا حل دریافت کرنا ہوگا۔ جب آپ کوئی فیصلہ لینا چاہیں تو آپ درج ذیل اصولوں کو سامنے رکھیں : 1- سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ اسلام کے اصل ماخذ قرآن اور حدیث اور اُسوۂ صحابہ، میں اُس مسئلے کا حل کیا ہے۔

2- اگر آپ اصل ماخذ (قرآن اور حدیث) میں اپنے مسئلے کا حل نہ پاسکیں تو آپ باہمی مشورے سے اُس مسئلے کو حل کریں۔

3- اگر آپ باہمی مشورے سے کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکیں تو یہ دیکھیں کہ اکثریت کا عمل (majority rule) کیا ہے۔

4 - اگر اکثریت کی رائے سے بھی کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکے تو آپ قرعہ اندازی (drawing of lots) کا طریقہ اپنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page