Al-Risala · May 2007 · page 35

رائے کی قربانی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵

کلمۂ اسلام کو پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ یہ کام صرف اس طرح ممکن ہے کہ ہم دعوتی مشن کے ساتھ جینے اور مرنے کا عزم کر لیں۔ اور اس کام کو اپنا اوّلین کنسَرن (primary concern) بنا کر بقیہ تمام دوسری چیزوں کو اپنی زندگی میں ثانوی (secondary) حیثیت دے دیں۔

رائے کی قربانی

عمرۃ الحدیبیہ (623ء) کی ادائیگی کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ایک منتخب گروہ کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ:

”اے لوگو، اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میرے بارے میں اختلاف نہ کرو، جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے اختلاف کیا۔ آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم نے انھیں اُس چیز کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تمھیں بلایا ہے۔ پس جس کو انھوں نے (دعوتی مقصد کے لیے) قریب کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اِس پر راضی ہو گیا اور اِس نے اُس کو مان لیا، اور جس کو انھوں نے دُور کے علاقے کے طرف بھیجا تو وہ اِس کو ناگوار معلوم ہوا اور اِس نے اُس پر گرانی محسوس کی۔ عیسیٰ بن مریم نے اللہ سے اِس کی شکایت کی۔ تو جن لوگوں کو ناگواری ہوئی، اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن میں سے ہر ایک اُس قوم کی زبان بولنے لگا جس کی طرف اُس کو جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ “ (سیرۃ النبی لابن ہشام، جلد اول، صفحہ: 278)

اِس لیے میں آپ سے کہوں گا کہ دعوتی مشن کے لیے اتحاد بہت ضروری ہے۔ اتحاد کا مطلب ہے— اختلاف کے باوجود متحد رہنا۔ آپ کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ— اتحاد ہماری طاقت ہے اور اختلاف ہماری کمزوری:

United we stand, divided we fall.

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page