Al-Risala · May 2007 · page 43

United we stand, divided we fall.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳

پٹنہ بک فیئر کا شمار ہندوستان کے بڑے بک فیئر میں ہوتا ہے۔ یہ بک فیئر پٹنہ کے مشہور گاندھی میدان میں لگتا ہے۔ اس بار پٹنہ میں یہ بک فیئر یکم نومبر 2006 تا 12 دسمبر 2006 تک تھا۔ اس میں پہلی بار گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) نے حصہ لیا۔ کافی تعداد میں لوگ گڈ ورڈ بکس کے اسٹال پر آئے۔ قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے جو کافی تعداد میں تھے، وہ بک فیئر کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہو گیے۔ صدر اسلامی مرکز کے ہندی ترجمہ قرآن کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے جج مسٹر دتّہ، صدر اسلامی مرکز کے حوالے سے خاص طور پر اسٹال پر آئے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب 'اسلام ری ڈسکورڈ' (Islam Rediscovered) کو اہتمام اور شوق کے ساتھ خریدا۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا دونوں نے گڈ ورڈ بکس کے اسٹال کو نمایاں طور پر کور کیا۔ پٹنہ میں الرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹر نیشنل سے متعلق احباب بطور خاص مسٹر ایم ٹی خان، مسٹر امام غزالی اور مسٹر اے ایم ایچ دانیال اہتمام کے ساتھ اسٹال پر موجود رہتے تھے۔ یہ لوگ اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا تعارف پیش کرتے تھے اور صدر اسلامی مرکز کے دعوتی کتابچے (Dawah Booklets) اور سی پی ایس کے دعوتی بروشر (Dawah Brochure) اُن کے درمیان مفت تقسیم کرتے تھے۔ (محمد مصطفیٰ عمری) 2- ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق، بابری مسجد سانحے سے تھا جس کو اب چودہ سال ہو چکے ہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ کچھ خود ساختہ لیڈروں کا مسئلہ ہے جو اس مسئلے پر عوام کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ اس سے کوئی مثبت فائدہ نکلنے والا نہیں۔

3- ماہ نامہ 'افکار ملی' (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اسلم مقبول نے 9 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو کار ڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— مسلم تنظیمیں، جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مثبت طرزِ فکر کو اپنائیں۔ مثبت طرزِ فکر ہی تمام ترقیوں کا ذریعہ ہے۔

4- نئی دہلی کے اُردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر اسجد نواز نے 13 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حکومت کے تجویز کردہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ تجویز اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی ہے جو تمام مسلم ملکوں میں بالفعل قائم ہے۔ البتہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے مدارس کے علماء صرف علماء سند ہیں، وہ حقیقی معنوں میں علماء دین نہیں۔ اس لیے اس تجویز کا عملاً مفید ہونا بظاہر مشکوک نظر آتا ہے۔ کیوں کہ عملی طور پر اس بورڈ کو چلانے والے یہی علماء ہوں گے۔ تاہم حکومت کی اس تجویز نے ہمارے مدارس کو ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے، مرکزی مدرسہ بورڈ کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کا پورا بجٹ حکومت ہند دے گی، جب کہ اس کا نظام عملاً مسلم علماء کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایسی ایک تجویز پر منفی روش کا اظہار کرنا صرف بے دانشی کی بات ہے۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ 1857 میں علماء نے فتویٰ دیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page