Al-Risala · May 2007 · page 44

United we stand, divided we fall.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کے بعد تقسیم ہند کی تحریک چلی۔ اس تاریخی پس منظر نے مسلمانوں ایسا ذہن پیدا کر دیا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت کو غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مزاج کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ اس مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں منافقانہ کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ یعنی ایک سیاسی نظام کو غیر دینی نظام سمجھنا اور اسی کے ساتھ اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا۔

5- دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 28 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویوئر مسٹڑ شیم تھے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ عید الاضحیٰ کا مطلب ہے قربانی کی عید۔ قربانی سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو قربانی کی حد تک اختیار کرے۔ وہ کسی بھی حال میں سچائی کے راستے سے نہ ہٹے۔ 6- این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 30 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویوئر مسٹر اوما شنکر تھے۔ سوالات کا تعلق، صدر صدام حسین کی پھانسی سے تھا جو آج ہی عراق میں پیش آئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جو کچھ ہوا اُس کے خلاف احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ صدام حسین نے تقریباً 30 سال تک عراق پر ڈکٹیٹرانہ حکومت کی، لیکن آخرمیں انھو ںنے عراقیوں کے نام اپنے ایک پیغام میں عراقیوں کو مثبت طرز فکر کا پیغام دیا۔ انگریزی میں رپورٹنگ میں ان کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

I call on you not to hate Americans, because hate closes all doors of thinking. یہ بلاشبہ ایک صحیح پیغام ہے۔ اور نہ صرف عراقیوں کو بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 7- ڈینک ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر احمد نے 25 جنوری 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، سچر کمیٹی کی رپورٹ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ترقی ذاتی محنت سے ملتی ہے، رعایت سے ترقی ممکن نہیں۔ 8- مسٹر باوا جین (مقیم امریکا) اور مسٹر رمیش بھنڈاری (سابق گورنر، یوپی) کی قیادت میں ایک تنظیم ’ہندو جوئش سمٹ‘ بنی ہے۔ اُس کے تحت 7 فروری 2007 کو ایک ڈائیلاگ ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے ہوٹل ’آبرائے کانٹی نینٹل‘ میں منعقد کیا گیا۔ اس میں اسرائیل اور دوسرے مقامات کے یہودی مذہب کے بڑے بڑے پیشوا شریک ہوئے تھے۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ اسرائیل اور فلسطین میں امن کس طرح قائم کیا جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے مسئلے کا حل بتایا۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ ہر حال میں امن کو قائم کرنا چاہتا ہے۔

9- صدر اسلامی مرکز کے نام ایک خط مورخہ 22 دسمبر 2006 موصول ہوا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے: محترمی و مکرمی جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ الرساله جنوری 2007 کا شمارہ بعض حقائق کے انکشاف کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ میں ہمیشہ اس احساس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page