Al-Risala · June 2007 · page 2

مسیحی ماڈل کی آمد ثانی

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲

مسیحی ماڈل کی آمد ثانی

قرآن خدا کا کلام ہے۔ خدائی کلام کا اسلوب انسانی کلام سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں قرآن کے علاوہ پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر نے اپنے مخاطبین سے کہا۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ رہیں تو پتھر چلا اٹھیں گے : I tell you that if these should keep silent, the stones would immediately cry out. (Luke, 19:40)

یہ قول خدائی اسلوب میں ہے جو پیغمبر کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو اس انداز میں کلام کر سکتا ہے۔ اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان نہ بولیں تو خدا پتھروں کو حکم دے گا، اور وہ خدا کی بات بولنے لگیں گے۔

خدائی کلام کا ایک اسلوب یہ ہے کہ حال کی زبان میں مستقبل کی بات کہنا۔ یہ اسلوب اس حقیقت کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے کہ صاحبِ کلام وہ ہستی ہے جو حال سے لے کر مستقبل تک کی تمام چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ اس اسلوب کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ملتی ہے۔ خدا نے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: أو لم ير الذين كفروا أن السموات والأرض كانتا رتقاً ففتقناهما (الأنبیاء : 30) یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ زمین اور آسمان دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اس آیت میں خلا کے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کو موجودہ زمانے میں بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی عیسوی میں اتری تھی، جب کہ بگ بینگ کے واقعے کو انسان نے پہلی بار صرف بیسویں صدی عیسوی میں جانا۔ اس کے باوجود قرآن میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے حال کے صیغے میں کلام کیا گیا ہے۔ یہ عالم الغیب خدا کا ایک اسلوب ہے، اس قسم کا منفرد اسلوب انسانی کلام میں نہیں پایا جاتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page