Al-Risala · June 2007 · page 3

مسیحی ماڈل کی آمد ثانی

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳

اس اسلوب کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر 61 میں موجود ہے۔ اس سورہ کی آخری آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اے ایمان لانے والو، تم لوگ خدا کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا کہ کون ہے جو خدا کے لیے میرا مددگار بنتا ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں خدا کے مددگار۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے مانا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے ماننے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے خلاف مدد کی وہ ہو گئے غالب‘‘۔ (الصف: 14)

اس آیت کا اسلوب ایک غیر معمولی اسلوب ہے۔ اس لیے کہ اس آیت میں واضح ور پر پیروان محمد کو پیروان مسیح کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے ایک نہایت اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہاں خدا نے حال کی زبان میں مستقبل کے معاملے کو بیان فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ محمدی ماڈل زمانی حالات کی نسبت سے، جزئی طور پر، قابلِ انطِباق (applicable) نہ رہے گا، اس کے بجائے مسیحی ماڈل، جزئی طور پر، قابلِ انطباق بن جائے گا۔ محمدی ماڈل کیا ہے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ آپ کا مشن دوسرے پیغمبروں کی طرح توحید کا مشن تھا۔ نظریاتی اعتبار سے آپ کے مشن اور دوسرے پیغمبروں کے مشن میں کوئی فرق نہ تھا، لیکن زمانی حالات کے اعتبار سے اُس کا ایک خاص ماڈل بنا۔ اس ماڈل کی ترتیب یہ تھی دعوت، ہجرت، جہاد (به معنی قتال) اور فتح۔ اس ترتیب کی پیروی کرتے ہوئے آپ کا مشن دعوت سے شروع ہوا اور درمیانی مراحل ط طے کرتے ہوئے آخر میں فتح تک پہنچا۔

اس ترتیب میں دعوت تو توحید اپنی نوعیت کے اعتبار سے محمدی ماڈل کا مطلق جز تھی، لیکن بقیہ چیزوں کی حیثیت اس ماڈل کے اضافی اجزا کی تھی، یعنی ایسے اجزا جو حالات کی نسبت سے بنتے ہیں، نہ کہ نظری یا اعتقادی پہلو سے۔

مختلف اجزا کے درمیان یہ نوعی فرق ایک معلوم فرق ہے، جو خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page