Al-Risala · January 2007 · page 24

نئی دہلی، ۱۳؍جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴

جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے یاد دہانی کے لیے دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا: برادر محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مورخہ ۱۳ جون ۲۰۰۶ء میں، آپ سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کسی ایسی تحریر کا ایک متعین حوالہ دریافت کیا تھا جس سے آپ کے دعوے کے مطابق، یہ معلوم ہو کہ انھوں نے اسلام اور عصر حاضر کے موضوع کو اس کے عمیق معنوں میں سمجھا ہے اور اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔ مگر ابھی تک آپ نے اس کا کوئی جواب روانہ نہیں فرمایا۔ براہ کرم جلد میرے خط کا متعین جواب روانہ فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۳ جولائی ۲۰۰۶ء جواب کا منتظر وحید الدین میرے ان دو خطوں کے بعد مراسلہ نگار کا درج ذیل خط مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوا: فضیلۃ الاستاذ مولانا وحید الدین خاں صاحب اطال اللہ بقاكم و ادام فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا!

آپ کا ای میل نظر نواز ہوا۔ پہلی بار انٹرنیٹ کی برکت سے آپ سے شرف ہم کلامی حاصل ہو رہا ہے، میں آپ کے مؤقر جریدہ۔ الرسالہ ۔ کا تقریباً بارہ تیرہ سال سے شیدائی ہوں، آپ کی تحریروں کو بڑے شوق سے پڑھتا ہوں، زمانہ طالب علمی ہی میں آپ کی کتاب ۔ مذہب اور جدید چیلنج، تعبیر کی غلطی ۔ اور چند دوسری کتابیں پڑھ لی تھیں، اُسی زمانہ سے الرسالہ مطالعہ کے لیے ادھر اُدھر سے حاصل کرتا تھا نہ ملنے کی صورت میں لکھنؤ شہر کے بعض مکتبوں سے خرید کر پڑھتا تھا، جب میں قطر آ گیا تو یہاں اردو داں حلقے سے جس حد تک بھی میری واقفیت تھی کسی کے پاس بھی الرسالہ نہیں آتا تھا، آپ کے افکار سے واقفیت رک گئی، شوق نے پھر مہمیز کیا اور میں نے الرسالہ یہاں کے پتہ پر جاری کروایا جو میری سستی اور بعض دوسری مشغولیات کی بنا پر تجدید اشتراک نہ کر سکنے کی وجہ سے پچھلے سال جون میں بند ہو گیا۔ ماشاء اللہ آپ کا مطالعہ بہت وسیع ، آپ کا اسلوب نگارش بہت عمدہ اور طریقہ استنتاج بہت منفرد ہے۔ آپ کا ذہن تقلیدی نہیں، آپ اور تحجینل چیزیں پیش کرتے ہیں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور ان کی سائنٹفک توجیہ کرتے ہیں، عصر حاضر میں اسلام کی خدمت کے حوالے سے آپ کی کوششیں اور کاوشیں قابل قدر ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page