Al-Risala · January 2007 · page 23

نئی دہلی، ۱۳؍جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳

تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اب میں اس سلسلے میں اپنا آخری خط آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ نے اس کا جواب روانہ نہیں فرمایا تو میں یہ سمجھوں گا کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے متعلق، آپ کا یہ بیان صرف قصیدہ نگاری کے طور پر تھا، وہ ایک امر واقعہ کا بیان نہ تھا۔ کیوں کہ امر واقعہ کا ہمیشہ ایک متعین حوالہ ہوتا ہے۔ جب کہ مدحیہ قصیدے کی حیثیت صرف ایک شاعرانہ مبالغے کی ہوتی ہے، وہ کسی ایسی حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا جس کا حوالہ دینا ممکن ہو۔ نئی دہلی، ۳۰؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ـــــ ۸ ماہ نامہ زندگی نو (نئی دہلی) کے شمارہ جون ۲۰۰۶ میں ”رسائل ومسائل‘‘ کے تحت، مولانا محمد شاہد خان ندوی (دوحہ، قطر) کا ایک مراسلہ چھپا۔ اپنے اس مراسلے میں انھوں نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے نزدیک علمی اعتبار سے بے بنیاد تھی۔ اس سلسلے میں ان سے درج ذیل مراسلت ہوئی: برادر محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ کا ایک مراسلہ ماہ نامہ زندگی نو (جون ۲۰۰۶) میں چھپا ہے۔ اس مراسلے میں آپ نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں لکھا ہے کہ ـــــ ”عصر حاضر اور اسلام پر شاید ہی کوئی دوسرا عالم اتنا لکھتا اور بولتا ہو جتنا کہ علامہ یوسف القرضاوی لکھتے اور بولتے ہیں‘‘۔ (صفحہ ۸۰) اس بیان سے آپ کی مراد اگر یہ ہو کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصر حاضر میں پیدا شدہ بعض جزئی فقہی مسائل کے متعلق کلام کیا ہے تو یہ بجائے خود درست ہے، لیکن اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصر حاضر اور اسلام کے موضوع کو اس کے عمیق معنوں میں سمجھا ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کا علمی تجزیہ کیا ہے تو مجھے ان کی ایسی کسی کتاب کا علم نہیں۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنی کس کتاب میں اسلام اور عصر حاضر کے موضوع پر اس عمیق مفہوم میں اس کا گہرا علمی تجزیہ کیا ہے۔ براہ کرم متعین طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ اُن کی متعلقہ تحریر کا حوالہ روانہ فرمائیں۔

نئی دہلی، ۱۳؍جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page