Al-Risala · June 2007 · page 11

تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱

يسمعه مَّن قَرُب و بعد (القرطبی، جلد 13، صفحہ 238) یعنی دابّہ لوگوں سے تیز زبان میں بولے گا، وہ ایسی آواز میں بولے گا جس کو قریب والے بھی سنیں گے اور دور والے بھی سنیں گے۔ اس کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ دابّہ کی خود اپنی آواز ساری دنیا میں براہِ راست طور پر سنائی دے گی تو یہ ایک ناقابلِ فہم بات ہے۔ کیوں کہ اگر دابّہ اتنی زیادہ بلند آواز میں بولے کہ ساری دنیا کے لوگ اُس کو براہِ راست طور پر سنیں تو لوگ اُس کو سننے سے پہلے صرف اس کے صوتی دھماکے ہی سے مرچکے ہوں گے۔ اس قسم کی بلند آواز انسانوں سمیت تمام چیزوں کو دفعۃً تباہ کردے گی۔ اُس کے بعد کوئی سننے والا ہی نہیں ہوگا جس کو کوئی سنانے والا سنائے۔

اس طرح کی اور بھی کئی باتیں روایات میں آئی ہیں۔ اس لیے دابّہ کے سلسلے میں جو روایات آئی ہیں، ان کو درست مانتے ہوئے اُن کی تاویل کی جائے گی، نہ یہ کہ ان کو لفظی طور پر درست مان لیا جائے۔ میرے مطالعے کے مطابق، دابّہ کمیونی کیشن کے زمانے کا ایک مشینی ہتھیار ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو آج کل ملٹی میڈیا کہا جاتا ہے۔

حدیث میں بعد کے زمانے کے ایک گروہ کا ذکر کیا گیا ہے، اس گروہ کو 'اخوانِ رسول' کا نام دیا گیا۔ میری سمجھ کے مطابق، جو لوگ دابّہ کے اس جدید دعوتی امکان کو استعمال کرکے ساری دنیا میں دین حق کا پیغام پہنچائیں، وہی اخوانِ رسول کہے جائیں گے۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں وہی عظیم رول ادا کریں گے جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول نے ادا کیا تھا۔ اصحابِ رسول 'خیر امت' کا پہلا حصہ تھے۔ 'اخوانِ رسول' خیر امت کا دوسرا حصہ ہوں گے۔ یہ تاریخِ دعوت کا آخری اظہار ہوگا۔ اس کے بعد نہ موجودہ دنیا باقی رہے گی اور نہ دعوتی عمل کی ضرورت۔ هذا ما عندی و العلم عند الله۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page