Al-Risala · June 2007 · page 10

تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰

ایک عملی طریقہ، قرآن کے لفظوں میں ’منہاج‘ اختیار کیا۔ اس اعتبار سے اُن میں سے ہر ایک کو خدا پرستانہ زندگی کے لیے ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں سے تقریباً دو درجن پیغمبروں کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اور اُن کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اولٰئک الذین هدى الله فبهداهم اقتده (الأنعام: 90) یعنی اُن میں سے ہر ایک، خدا کے دین کا ماڈل ہے۔ اُن میں سے ہر ایک یہ بتاتا ہے کہ مختلف حالات میں خدا پرستانہ زندگی کی عملی صورت کیا ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں دوسرا رول ہاجرہ اور آلِ ابراہیم کا ہے۔ انھوں نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے ایک انقلابی کام انجام دیا۔ اس کے بعد کام کے دوسرے مراحل پیش آتے رہے۔ ان کی تفصیل میں نے اپنی کتابوں میں پیش کی ہے۔ مثلاً اسلام دورِ جدید کا خالق‘ اور ظہورِ اسلام وغیرہ۔ دابّہ کے لفظی معنی ہوتے ہیں رینگنے والا (creeper)۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس سے مراد کوئی عجیب الخلقت حیوان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں ملٹی میڈیا (multi media) کہا جاتا ہے۔ ملٹی میڈیا سرعتِ رفتار کے ساتھ حق کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، دابّہ کی حیثیت ایک ذریعے کی ہے۔ دابّہ خود نہیں بولے گا، بلکہ وہ دورِ جدید کے داعی کی آواز کو لے کر ساری دنیا میں اس کو پہنچادے گا۔ یہاں تک کہ کوئی چھوٹا یا بڑا گھر اُس سے خالی نہ رہے گا۔ دابّہ، داعی کا ہتھیار ہوگا، وہ خود انسان کے مانند کلام نہیں کرے گا۔ واللہ أعلم بالصواب۔

دابّہ کو اگر اس معنی میں لیا جائے کہ وہ ایک عجیب الخلقت حیوان ہوگا اور حیوان ہونے کے باوجود وہ معجزاتی طور پر خود انسانی زبان میں کلام کرے گا۔ ایسا اگر مانا جائے تو یہ حالتِ امتحان کے خاتمے کے ہم معنی ہوگا۔ اور قیامت کے ظہور سے پہلے حالتِ امتحان ختم ہونے والی نہیں۔ روایات کے مطابق، دابّہ کا ظہور قیامت سے پہلے ہوگا۔ اس بنا پر دابّہ کے ظہور کو ایک ایسا خرقِ عادت واقعہ نہیں مانا جاسکتا جو حالتِ امتحان کو ختم کردینے والا ہو۔ دابّہ کے بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں بتایا گیا ہے کہ: تكلمهم بلسان ذلق، فتقول بصوت

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page