تراجم - تذکیر القرآن
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹
حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی حالت میں اس سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ۔
دوسری بات یہ کہ اس دنیا میں آخر کار جو چیز غالب (prevail) ہوتی ہے، وہ حقیقت (reality) ہے نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ۔ نیشنلسٹ یا وطن پرست کون ہے، اس کے بارے میں اصل فیصلہ کن چیز عالمی معیار ہے، نہ کہ آرایس ایس کے سرسیدا لک کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ۔ اور عالمی ذہن بلا شبہہ اس کو رد کر رہا ہے۔
نیشنل ازم کی مذکورہ تعریف کے مطابق، تمام ملکوں کے باشندے غدار ہیں، کیوں کہ کسی بھی ملک کے باشندے اپنے ملک کو مقدس نہیں سمجھتے۔ نیشنل ازم کا جو اصول ساری دنیا میں چل رہا ہے وہی انڈیا میں بھی چلے گا۔ کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ نظریے کے تحت، انڈیا کو ایک نیشنلسٹ جزیرہ بنا سکے۔
تراجم - تذکیر القرآن
تذکیر القرآن‘ کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں ــ تلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کڑڈ، نیز مختلف عالمی زبانوں ــ جرمن، فرنچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔
جو حضرات تذکیر القرآن‘ کے ترجمہ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues