Al-Risala · June 2007 · page 20

احکامِ دین

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰

احکامِ دین

دین میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ قرآن اور سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کی دو بڑی قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو دین کا مطلق حصہ (absolute part) ہیں۔ اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساں طور پر مطلوب ہوتا ہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی وقت کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔

احکامِ دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ (الکافرون:

قرآن کی اس آیت میں عبادت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے صریح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے، اس کو دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کے معاملے میں دوسروں سے نہ سمجھوتہ ہے اور نہ ایڈجسٹمنٹ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اسی ڈھنگ پر عبادت کرے جس طرح اسلام میں بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، ایک خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا شرک ہے اور شرک خدا کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادت میں اگر دوسروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ ہو تو مسلمان اس رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے جنگ چھیڑ دیں۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے معاملے میں بھی حالات کی رعایت کی جائے گی۔

چناں چہ مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے ابتداً کئی سال تک چھپ کر عبادت کی اور باقاعدہ با جماعت نماز کا اہتمام بہت بعد کو مدنی دور میں کیا گیا۔ عبادت کے معاملے میں یہ طریقہ قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page