Al-Risala · July 2007 · page 2

دعا عبادت ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲

دعا عبادت ہے

دعا کے معنی ہیں پکارنا۔ یہ لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اُس کا مطلب ہوگا اللہ کو پکارنا، اللہ سے التجا کرنا۔ یہ دعا ایک عظیم عبادت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ 'الدعاء هو العبادة‘ (الترمذی، ابن ماجہ، احمد) یعنی دعا ہی عبادت ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدعاء مخ العبادة (الترمذی، کتاب الدعاء) یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔

دعا کا عبادت ہونا بتاتا ہے کہ دعا ایک ذاتی نوعیت کا عمل ہے۔ ہر آدمی کو اپنی دعا آپ کرنا ہے، جس طرح ہر آدمی اپنی عبادت آپ کرتا ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ تم میری طرف سے نماز پڑھ دو، اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میرے لیے دعا کر دو۔

قرآن میں اہلِ ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے: يدعون ربهم خوفاً وطمعاً (السجدہ: 16) یعنی وہ لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف کے ساتھ اور امید کے ساتھ۔ کسی آدمی کا اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارنا ایک انتہائی قسّم کا ذاتی عمل ہے۔ یہ دعائیہ واقعہ کسی آدمی کے دل کی انتہائی گہرائیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اس قسم کی دعا ایک آدمی کو خود کرنا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میری طرف سے خوف کرلینا یا میری طرف امید کر لینا۔

اس قسم کی دعا کسی انسان کے لیے اس کی عبدیت کا معیار ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو اُس کی زندگی میں ایسے لمحات آنے چاہئیں جب کہ اُس کی روح اللہ کی یاد سے تڑپ اٹھے۔ اُس کے دل و دماغ میں اللہ کے تصور سے زلزلہ پیدا ہو جائے۔ اُس کے سینے میں تعلق باللہ کا سیلاب اُمنڈ پڑے اور پھر اس زلزلہ خیز کیفیت کے ساتھ وہ سراپا التجا بن کر اللہ سے دعا کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page