Al-Risala · July 2007 · page 3

دعا عبادت ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳

جس آدمی کے اندر یہ کیفیت پیدا نہ ہو، اُس کا ایمان ہی اللہ کے نزدیک غیر معتبر ہو جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ: من لم يسأل الله يغضب عليه (الترمذی، کتاب الدعوات) یعنی جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اُس پر غضب ناک ہوتا ہے۔

دعا ایک ایسا لطیف عمل ہے جو براہ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش آتا ہے۔ اس عمل کے دوران کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بہترین دعا وہ ہے جو تنہائیوں میں کسی بندہ خدا کے سینے سے ابلتی ہے۔ ایک روایت میں جنتی انسان کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: ذكر الله خاليا ففاضت عيناه (النسائی، موطا) یعنی وہ شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور پھر اُس کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔

ان نصوص کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ دعا انتہائی ذاتی نوعیت کا ایک لطیف عمل ہے۔ وہ ہر مدعی ایمان کے لیے اُس کی ربانیت کا اظہار ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ دعا ایسی چیز نہیں کہ آپ کسی مفروضہ بزرگ سے مل کر کہیں کہ آپ میرے لیے دعا کر دیجیے۔ اس قسم کی درخواست بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ یہ گویا اللہ کی طرف دوڑنے کے بجائے انسان کی طرف دوڑنا ہے۔

اسی طرح لاؤڈ اسپیکر پر دعا کرنا بھی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس قسم کا مکبرانہ فعل ایک تقریر ہے نہ کہ دعا۔ حتیٰ کہ یہ بھی حقیقی دعا نہیں کہ آپ کچھ الفاظ کورٹ لیں اور ہر باران رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرا دیں۔ دعا، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، قلبی تڑپ کا ایک عمل ہے، وہ رسمی الفاظ کے کسی مجموعے کا نام نہیں۔

صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب کا ترجمہ باب ان الفاظ میں قائم کیا گیا ہے: دعاؤ کم ایمانکم (تمھاری دعا تمھارا ایمان ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا ایمان ویسی دعا۔ دعا ایمان کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ اگر آدمی کو گہرا ایمان حاصل ہوا ہے تو اس کی دعا بھی دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ربانی آواز ہوگی۔ وہ جب دعا کرے گا تو اس کا پورا وجود

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page