Al-Risala · July 2007 · page 6

تراجم۔ ”تذکیر القرآن‘

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۶

امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کو سمجھنے میں اُنھیں مشکل پیش آتی تو وہ وضو کر کے کسی ویرانے میں چلے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے یہ کہتے کہ اے براہیم کو علم دینے والے، مجھے بھی علم دے دے (یا معلم إبراهیم علمنی) حقیقت یہ ہے کہ دعا ہر مشکل کے وقت مومن کا سہارا ہے ۔ وہ ہر مشکل مسئلے کا حل ہے۔ دعا بلاشبہ ایک طاقت ہے، سب سے بڑی طاقت ۔ دعا اللہ سے ملاقات کا لمحہ ہے۔ مگر یہ لمحہ غافل لوگوں کے حصے میں نہیں آتا۔ یہ قیمتی لمحہ صرف اسی انسان کے لیے مقدر ہے جو اپنے دل کے اندر اعلیٰ رُوحانی کیفیت کو بیدار کر چکا ہو۔

تراجم۔ ”تذکیر القرآن‘

’تذکیر القرآن‘ کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں ۔ تلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنَّڑ، نیز مختلف عالمی زبانوں۔ جرمن، فرنچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اِس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔ تذکیر القرآن مولاناوحیدالدین خاں جو حضرات 'تذکیر القرآن' کے ترجمہ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمّے ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page