دعا عبادت ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۵
کی پدریت (fatherhood) ہی مشتبہ ہو جائے گی۔
باپ اور بیٹے کا یہ واقعہ بندے اور خدا کے معاملے کو بتاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، جو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہے جس میں بندے کی پوری ہستی دعا میں ڈھل جاتی ہے۔ جب دعا کا قبول ہونا خدا کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے جتنا بڑا انسان کے لیے۔
غالباً دعا کی یہی قسم ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: رُبَّ أشعث أغبر مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی بہت سے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ اُن کی قسم کو پورا کرے گا۔
اس حدیث میں اُس انسان کی تصویر بتائی گئی ہے جو اللہ کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوا کہ اُس کو بال اور کپڑے کا اہتمام کرنے کی بھی فرصت نہ رہی۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے کام میں اس طرح وقف کر دیں اُن کا معاملہ اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ وہ جب کسی چیز کے لیے دعا کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی چیز کو مانگنا ہوتا ہے جس کی قبولیت کا فیصلہ پیشگی طور پر کیا جا چکا ہے۔ یہ دعا کوئی سادہ چیز نہیں ہے، یہ مومن کے لیے ایک عجیب سرمایہ ہے۔ دعا کے سرمایہ ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کسی شخص کے خلاف آپ سے کوئی ایسی غلطی ہوگئی جس کی تلافی کی کوئی اور صورت نہ ہو تو آپ اُس کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہیں کہ اے اللہ، تو میری طرف سے اُس کے حق میں دعائے خیر لکھ دے۔ آپ کے اوپر کسی کا احسان ہے اور آپ اُس کے احسان کا بدلہ نہ دے سکتے ہوں تو آپ اُس کے حق میں بہترین دعائیں کریں۔ آپ کسی معذوری کی بنا پر کوئی دینی کام نہ کرسکیں تو آپ اُن لوگوں کے لیے اللہ کی مدد کی دعا کریں جو اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے دل میں کسی کے خلاف شکایت آجائے تو آپ اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کے دل سے شکایت کو نکال دے اور اُس کی جگہ خیر خواہی کے جذبات رکھ دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues