Al-Risala · January 2007 · page 2

ایک علمی برائی۔ دعویٰ بلا دلیل

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲

ایک علمی برائی۔ دعویٰ بلا دلیل

بینک کی اصطلاح میں ڈُڈ چیک (Dud Cheque) ایسے چیک کو کہا جاتا ہے جس کے پیچھے بینک کے کھاتے میں ضروری سرمایہ موجود نہ ہو۔ مثلاً آپ کے بینک کے کھاتے میں صرف ایک ہزار روپیہ موجود ہو اور آپ پچاس ہزار روپے کا چیک لکھ کر کسی کو دے دیں تو یہ ڈُڈ چیک ہوگا۔ کیوں کہ یہ چیک جب بینک میں جائے گا تو بینک یہ کہہ کر ایسے چیک کو رد کر دے گا کہ لکھنے والے کے کھاتے میں بقدر ضرورت سرمایہ موجود نہیں۔ بہت سے لوگ اپنے نقطۂ نظر کی حمایت میں جو دلیل پیش کرتے ہیں وہ ڈُڈ چیک کی مانند ہوتی ہے۔ وہ بڑی بڑی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں لیکن جب ان سے ان کے دعوے کی دلیل مانگی جائے تو وہ ایسی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں جو علمی اعتبار سے بالکل بے وزن اور دلیل کے سرمایے سے خالی ہوتی ہیں۔ مجھے بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آئے ہیں۔ مزید یہ کہ جب میں نے ایسے حضرات کو متنبہ کیا اور ان سے ان کے قول کی دلیل مانگی تو وہ یا تو چپ ہو گئے یا ایک اور بے دلیل بات اپنی تائید میں پیش کر دی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر نہ تو علمی ذوق ہے اور نہ علمی جرأت۔ وہ بظاہر ڈگری یافتہ یا سند یافتہ ہونے کے باوجود مدلّل بات کہنے سے قاصر ہیں، اور مزید یہ کہ ان کے اندر اس اعتراف کی جرأت بھی نہیں کہ وہ کھلے طور پر یہ کہہ سکیں کہ۔ ہم غلطی پر تھے۔ میں نے اس معاملے میں کئی حضرات سے خط و کتابت کی۔ اس سلسلے میں کچھ خط و کتابت اگلے صفحات میں نقل کی جا رہی ہے۔

مراسلت نمبر۔۱

سہ ماہی مجلّہ تحقیقات اسلامی (علی گڑھ) کے معاون مدیر اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے رُکن ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے ۱۶ صفحات کی ایک کتاب لکھی، جو مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی سے ۲۰۰۵ میں چھپی۔ مصنف محترم نے اپنی اس کتاب کا ایک نسخہ میرے پاس بھیجا۔ اس سلسلے میں اُن سے درج ذیل مراسلت ہوئی: برادر محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کی بھیجی ہوئی کتاب ’’اقامتِ دین اور نفاذِ شریعت‘‘ بذریعہ ڈاک ملی۔ یہ کتاب آپ نے ۲۲ رمضان ۱۴۲۶ کو روانہ کی تھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھا۔ آپ نے اپنی اس کتاب میں ’’بعض حضرات‘‘ کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page