یہ ’مُضاہاۃ‘ ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ غیر مسلم قوموں نے اُن کی حکومت چھین لی، اُن کے غلبہ کو ختم کر دیا۔ حالاں کہ قرآن واضح طور پر اس سوچ کی تردید کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کو ماضی میں جو سیاسی غلبہ ملا ہوا تھا وہ اللہ کی طرف سے دی ہوئی ایک نعمت تھی۔ یہ نعمت خدائی قانون کے تحت اُس وقت اُن سے چھن گئی جب کہ وہ داخلی زوال کا شکار ہو گئے ۔ یہ تاریخی قانون قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے:
” یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے“ (الأنفال : 53)
فطرت کا یہ قانون قرآن میں ایک اور جگہ اس طرح بتایا گیا ہے: و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم (الشوریٰ : 30) یعنی جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کے سبب سے ہوتی ہے۔
مذکورہ قرآنی آیتوں کی روشنی میں اس معاملے میں جو اصول بنتا ہے وہ یہ اصول ہے کہ خود اپنے آپ کو الزام دو (blame thyself) مگر موجودہ مسلمانوں نے برعکس طور پر یہ اصول بنا لیا ہے کہ دوسروں کو الزام دو (blame others)۔
قرآن کا مذکورہ اُصول ظہورِ اسلام کے بعد ہزار سال تک جاری رہا۔ مسلم علماء ہمیشہ یہی کرتے رہے کہ مسلمانوں کے اوپر جب بھی کوئی قومی مصیبت پڑی تو اُس کا ذمہ دار اُنھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی اپنی داخلی کمزوری کو قرار دیا۔ مثال کے طورپر تیرھویں صدی میں تاتاریوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کر کے سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم آبادیوں کو تباہ کر دیا۔
یہ واقعہ مشہور مؤرخ ابن اثیر کے زمانے میں ہوا۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ’الكامل فی التاريخ‘ کی آخری جلد میں لکھا ہے کہ تاتاریوں کے حملہ کا سبب یہ تھا کہ خوارزم شاہ نے تاتاریوں کے کچھ تاجروں کو قتل کر دیا اور اُن کے اموال کو چھین لیا۔ اس کے نتیجے میں اُن کا سردار چنگیز خاں غضب ناک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues