شامت اعمال ما صورت نادر گرفت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱
ہو گیا اور اُس نے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا۔ (صفحہ 362)
اسی طرح اٹھارویں صدی کے وسط میں دہلی میں ایک قیامت خیز واقعہ پیش آیا۔ ایران کے حکمران نادر شاہ نے 1739 میں ہندوستان پر حملہ کیا اور بڑھتا ہوا دہلی پہنچ گیا۔ یہاں اُس وقت مغلوں کی سلطنت قائم تھی ۔ نادر شاہ کی فوج جب دہلی میں داخل ہوئی تو اُس کے ایک فوجی کو علیحدہ پا کر کچھ مسلمانوں نے اُس کو قتل کر دیا۔
اس کے نتیجے میں نادر شاہ سخت غضب ناک ہو گیا اور اُس نے دہلی میں قتل عام کا حکم دے دیا۔ اس واقعہ کے ایک معاصر صوفی شاعر نے اس پر اپنا تبصرہ ان الفاظ میں کیا تھا کہ یہ خود ہماری بداعمالی تھی جس نے ظالم نادر کی صورت اختیار کر لی:
شامت اعمال ما صورت نادر گرفت
اسلام کے آغاز سے لے کر اٹھارویں صدی تک مسلمانوں میں یہی ذہن جاری رہا۔ اس کے بعد ساری دنیا میں ایک نیا فکری انقلاب آیا۔ اس فکری انقلاب سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اہلِ قلم اور اہلِ زبان شعوری یا غیر شعوری طور پر بدل گئے ۔ وہ احتساب خویش کے بجائے احتساب غیر کی بولی بولنے لگے۔
یہ دور نمایاں طور پر کارل مارکس سے شروع ہوا۔ کارل مارکس کے تجزیہ کے مطابق، ساری دنیا دو طبقوں میں بٹ گئی تھی۔ تھوڑے سے لوگ استحصالی (exploiter) بن گئے اور زیادہ بڑی تعداد اُن کے استحصال کا شکار ہونے لگی ۔ چنانچہ مارکس نے یہ نعرہ دیا کہ اے استحصال کا شکار ہونے والو، اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
ماضی میں مذہب کے زیر اثر جو بھی تحریک اُٹھی وہ مبنی بر ذمہ داری (duty-based) تحریک ہوتی تھی۔ مگر اس کے بعد جو تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب مبنی بر حقوق (right-based) تحریکیں تھیں ۔ اشتراکی تحریک ، جمہوری تحریک ، قومی آزادی کی تحریک، سیلف ڈٹرمنیشن کی تحریک، آزادی نسواں کی تحریک، ہیومن رائٹس کی تحریک، ٹریڈ یونین کی تحریک، غرض مارکس کے بعد دنیا میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues