نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
حاصل ہے، اور اچھے انداز کا ربط و تعلق رہا ہے، دعا ہے کہ وہ باقی رہے۔ دعامیں یاد رکھیں۔ مخلص محمد رابع حسنی ندوی ندوۃ العلماء، لکھنؤ مولاناموصوف کے اس خط کے بعد میں نے دوبارہ ان کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ میرے اس خط کا ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ مذکورہ خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے: مکرمی و محترمی مولانا محمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۲ ؍اگست ۲۰۰۶ ملا۔ میرا پچھلا خط واضح طور پر ردّ و قدح کی نوعیت کا خط نہیں تھا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب’’نبی رحمت‘‘ کی افادیت اور خوبی سے بھی مجھے کوئی انکار نہیں، نیز یہ کہ میں نے اس کتاب کا تقابل کسی اور کتاب سے نہیں کیا تھا۔ میں نے آپ سے متعین طور پر صرف ایک بات دریافت کی تھی۔ وہ یہ کہ آپ نے لکھا ہے کہ— اس کتاب میں نئی نسل کے فہم اور نفسیات کی موجودہ سطح اور عصری اور علمی اسلوب کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ آپ کے اس بیان کے مطابق، میرا سوال صرف یہ ہے کہ آپ متعین طور پر اس کتاب کے کسی ایک صفحے کی نشان دہی فرمائیں جس میں عصری اسلوب کی واضح مثال ملتی ہے۔ نئی دہلی، ۸ ؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر 10 مولانابلال عبدالحی حسنی ندوی (ناظم مدرسہ ضیاء العلوم، رائے بریلی) کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ یہ کتاب مولانا ابوالحسن علی ندوی کے بارے میں لکھی گئی تھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر اس سلسلے میں مصنف کو ایک خط لکھا۔ اس خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
برادر محترم مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ نے اپنی کتاب’’سوانح مفکر اسلام‘‘ (مطبوعہ: سید احمد شہید اکیڈمی، رائے بریلی) میں برصغیر ہند و پاک میں مغربی تہذیب پر ’نکتہ چینی‘ کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’برصغیر میں اس سلسلے کا سب سے نمایاں نام ڈاکٹر محمد اقبال کا ہے جن کو جدید مشرق کا سب سے زیادہ بالغ نظر مفکر قرار دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب وافکار کا بھر پور مطالعہ کیا اور پوری جرات
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues