Al-Risala · January 2007 · page 29

نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹

میرے اس خط کے بعد جب مولانا موصوف کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو میں نے دوبارہ یاد دہانی کے لیے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:

مکرمی و محترمی مولانامحمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مورخہ ۱۵ جون ۲۰۰۶ میں، مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی رحمت‘‘ کے متعلق، آپ سے یہ دریافت کیا تھا کہ مولانا علی میاں کی اس کتاب کے کس صفحے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل کے فہم کی موجودہ سطح کو سمجھتے تھے، اور انھوں نے عصری اسلوب میں اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔ مجھے ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ براہِ کرم متعین طور پر جلد اس کا جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

نئی دہلی، ۱۵ جولائی ۲۰۰۶ء جواب کا منتظر وحید الدین میرے ان دو خطوط کے بعد مولانا موصوف کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے: محترم المقام جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب زیدت معالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا۔ عنایت نامہ ملا، اس بات سے مسرت ہوئی کہ میری مرتب کردہ کتاب آپ کی نظر سے گزری، اس میں آپ نے ایک جگہ میری تحریر کردہ بات سے اختلاف کیا ہے، وہ بات حضرت علی میاں صاحب رحمۃ اللہ کی کتاب ’’نبی رحمت‘‘ کی افادیت اور خوبی کے سلسلہ میں ہے، اس میں آپ کی رائے میرے اظہار کردہ خیال کے خلاف ہے، آپ کے عنایت نامہ سے اس کا علم ہوا۔

اختلاف رائے ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ بہرحال میں نے جو سمجھا وہ لکھا، اور صحیح سمجھ کر لکھا۔ امید ہے کہ میری اختیار کردہ رائے کے اظہار کو آپ غلط معنی نہ دیں گے۔ میں نے کسی دوسرے سے تقابل نہیں کیا ہے، اور میں حتی الوسع شخصیتوں کے درمیان اختلاف کو اپنی تحریر یا تقریر کا موضوع بھی نہیں بناتا، ہر ایک شخصیت کی صرف خوبیوں تک اپنے اظہارِ رائے کو رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، اور اختلافی معاملات سے اجتناب کی بھی کوشش کرتا ہوں، الا یہ کہ اسلام اور کفر کے مابین کی بات ہو۔ میں اس میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں، کہہ نہیں سکتا، لیکن ایسے معاملات میں کسی سے رَدّ و قدح کرنا پسند نہیں کرتا۔ آپ سے مجھ کو عرصہ سے تعارف

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page