Al-Risala · July 2007 · page 33

گیارہ ستمبر کے بعد

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

خیال ہے کہ وہ بمبارڈمنٹ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مگر یہ اصل معاملے کا صرف ایک کم تر اندازہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ ’اسلامک ٹررزم‘ ایک ایسے ٹررزم کا نام ہے جس کو ایک مقدس آئیڈیالوجی کے ذریعہ درست ثابت کیا گیا ہو۔ جو مسلمان سوسائیڈل بم دھماکہ کرکے امریکہ کو چیلنج کر رہے ہیں وہ دیوانے لوگ نہیں ہیں۔ ان کے اس غیر معمولی اقدام کا سبب یہ ہے کہ ان کے عقیدہ نے انھیں یہ بتایا ہے کہ جہاد کر کے مر جاؤ تو تم سیدھے جنت میں جاؤ گے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس نے ان کو اتنا زیادہ جری بنا دیا ہے کہ وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ تم کو زندگی سے جتنا پیار ہے اُس سے زیادہ ہم کو موت سے پیار ہے۔

یہ آئیڈیالوجی بلاشبہ صد فیصد غلط ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر اس کے پیچھے سوسال سے زیادہ مدت کی لمبی تاریخ ہے۔ سید جمال الدین افغانی، حسن البنا، سید قطب، محمد اقبال، آیۃ اللہ خمینی، سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے بہت سے لوگوں نے اسلام کا پولیٹکل انٹربریٹیشن کر کے انھیں باور کرایا ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا عمل جہاد ہے، جہاد کرو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کی غلط تعبیر پر قائم شدہ اس پولیٹکل آئیڈیالوجی کو ڈسٹرائے کیا جائے۔ یہ گن ورسز گن کا معاملہ نہیں بلکہ گن ورسز آئیڈیالوجی کا معاملہ ہے اور اس بے بنیاد آئیڈیالوجی کو ڈسٹرائے کر کے ہی ہم اسلام کے نام پر کیے جانے والے ٹررزم کو ختم کر سکتے ہیں۔

کوئی انسان پیدائشی طور پر ٹررسٹ نہیں ہوتا۔ ہر انسان پیدائشی طور پر امن پسند ہی ہوتا ہے۔ کوئی آدمی ٹررسٹ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کے مائنڈ میں کسی غلط نظریہ کے ذریعہ یہ بٹھا دیا جائے کہ ٹررزم میں اس کے لیے نجات ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب دلائل کے زور سے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا جائے تو آدمی اپنی فطرت پر آ جاتا ہے۔ اور فطرت کی سطح پر ہر آدمی امن پسند ہی ہے۔ میں نے ذاتی طور پر ہزاروں لوگوں پر اس کا تجربہ کیا ہے۔ میں کہہ سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page