گیارہ ستمبر کے بعد
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲
صرف مقامی لوگوں کے علم میں آسکا۔ وسیع تر دنیا کو اُس کی کوئی خبر ہی نہ ہوسکی۔ اور جس واقعہ کی لوگوں کو خبر ہی نہ ہو اس سے وہ نفرت کیوں کر کریں گے۔
منگول حکمران کا واحد ایڈوانٹیج یہ تھا کہ اُس کو میڈیا سے پہلے کا دور ملا۔ اس کے مقابلہ میں امریکی حکمرانوں کا ڈس ایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے دور میں ہیں۔ اس بنا پر اُن کی ہر متشددانہ کارروائی کی الفور تمام دنیا کے علم میں آجاتی ہے۔ اس فرق کے پیچھے صرف زمانی عامل (age factor) ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
مزید یہ کہ ماڈرن میڈیا کا ایک خاص ذوق ہے اور اس ذوق کی بھاری قیمت امریکہ کو ادا کرنی پڑی ہے۔ وہ یہ کہ یہ میڈیا سلیکٹیو رپورٹنگ کی ایک ایسی انڈسٹری ہے جس کو گڈ نیوز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ ہمیشہ بیڈ نیوز کو نمایاں کرتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ امریکا میں ہزاروں قسم کی گڈ نیوز ہیں۔ امریکا نے مسلمانوں سمیت ساری دنیا کو بہت سی مفید چیزیں دی ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں سائنٹفک ریسرچ کا کام سب سے زیادہ امریکا میں ہوا ہے جس کا فائدہ مختلف شکلوں میں ساری دنیا کو پہنچا ہے۔ امریکا میں اس قسم کے بہت پلس پوائنٹ ہیں مگر ان چیزوں کو زیادہ تر صرف اسکا لر قسم کے لوگ جانتے ہیں۔ عام انسان کے علم میں امریکا کی وہی چیزیں آتی ہیں جو ٹی وی کے ذریعہ نمایاں کی جاتی ہیں اور یہ زیادہ تر وہی ہے جس کو ہم نے بیڈ نیوز کا نام دیا ہے۔
11 ستمبر 2001 کو امریکا کو جو سخت تجربہ ہوا اس کے نتیجہ میں امریکا کی اکثریت غصہ اور انتقام سے بھر گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 8 اکتوبر 2001 سے افغانستان کے اوپر بم باری شروع کر دی گئی جہاں اسامہ بن لادن چھپا ہوا تھا جس نے امریکا کی انٹیلی جنس کے مطابق، 11 ستمبر کے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
مگر میں نے 8 اکتوبر کے فوراً بعد یہ کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ بم باری اس مسئلے کا جواب نہیں۔ امریکی مدبرین اس مسئلہ کو سادہ طور پر صرف ٹررزم کا ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues