Pin-855101
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵
ایک مثال
سرسید احمد خاں (وفات: 1898) کا زمانہ برطانیہ کے غلبہ کا زمانہ ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ مسلمان مستقبل کے بارے میں اپنی تمناؤں کو اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب کہ وہ جدید معیار پر تعلیم یافتہ بن چکے ہوں۔ اس کے بغیر وہ کسی شاندار مستقبل کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ بہت سے مسلم رہنما برطانیہ کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول تھے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور انگریزوں کے اشارے پر وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو سیاسی محاذ سے ہٹا دیں، حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے سرسید کے کفر کا فتویٰ بھی شائع کر دیا۔ مولاناشبلی نعمانی (وفات: 1914) سرسید کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے سرسید کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ سرسید کا اصل منصوبہ مسلمانوں کو سیاسی محاذ سے ہٹانا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو تیار کر کے اس قابل بنانا ہے کہ وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ زندگی کا وہ مقابلہ کر سکیں جس کو اس وقت وہ ناکامی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ مولانا شبلی نے اس زمانے میں سرسید کے دفاع میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس کا ایک فقرہ یہ تھا کہ جو لوگ سرسید پر سیاسی اعتراضات کر رہے ہیں انھوں نے سرسید کے سیاسی شاہ نامہ میں سے صرف ’’منیژہ مُنَم‘‘ یاد کر رکھا ہے۔ فردوسی کا شاہ نامہ ایک بہت موٹی کتاب ہے۔ اس میں 60 ہزار اشعار ہیں۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے جو فردوسی نے افراسیاب کی لڑکی کی زبان میں کہا ہے: منىژہ منم دختِ افراسياب برهنه ندیده تنم آفتاب مولانا شبلی نعمانی کی یہ بات ہر اس مصلح پر چسپاں ہوتی ہے جو کوئی گہرا منصوبہ لے کر اٹھے۔ عام لوگ صرف سطحی باتوں کو جان پاتے ہیں وہ کسی گہری اسکیم کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اس لیے وہ ایسے مصلحین کے خلاف اس قسم کا الزام دینے لگتے ہیں جو سرسید کو ان کے مخالفین نے دیا۔ مگر مستقبل کی تاریخ ہمیشہ یہ بتاتی ہے کہ کون شخص حقیقہً قوم کو آگے لے جانا چاہتا تھا اور وہ کون شخص تھا جو یہ چاہتا تھا کہ آگے بڑھانے کے نام پر وہ قوم کو کچھ اور پیچھے دھکیل دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues